امریکہ کا صدارتی انتخاب: کب اور کیا ہو گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ میں صدارتی انتخاب آٹھ نومبر کو منعقد ہو رہے ہیں۔ جائزہ رپورٹوں کے مطابق ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے۔امریکہ کے 45 ویں صدارتی انتخاب میں کب کیا کیا ہو گا؟

ووٹنگ کب شروع ہو گی؟

امریکہ کی مشرقی ریاستوں میں پولنگ 11:00 جی ایم ٹی یا 12:00 جی ایم ٹی پر شروع ہو گی۔ مغربی ریاستوں میں بھی سارا دن ووٹ ڈالیں جا سکیں گے۔

پولنگ ختم ہونے کے بعد امریکی ذرائع ابلاغ جائزہ پولز کے مطابق اپنے نتائج کا اعلان کریں گے۔ یہ پولز پولنگ کے دن ہی ہوں گے لیکن ان کے نتائج کا اعلان پولنگ ختم ہونے کے بعد کیا جائے گا تاکہ یہ ووٹروں پر اثرانداز نہ ہوں۔ تمام ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

پہلا نتیجہ کب آئے گا؟

امریکی ریاست نیو ہیمپشائر کے تین قصبوں میں ووٹنگ کی روایت بہت غیر معمولی ہے۔ یہاں پولنگ صبح پانچ بجے شروع ہوتی ہے اور اُس کے کچھ ہی دیر بعد ختم ہو جاتی ہے۔

پولنگ جلد بند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تین قصبوں کے لوگ اکٹھے ہو کر ووٹ ڈالتے ہیں اُس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔

ان علاقوں میں باقی ملک کے مقابلے میں 24 گھنٹے پہلے ہی نتائج آ جاتے ہیں۔

اہم نتائج کب آئیں گے؟

00:00 جی ایم ٹی پر فلوریڈا جیسی فیصلہ کن ریاست میں پولنگ بند ہو جائے گی۔

فلوریڈا کافی اہمیت کی حامل ریاست ہے کیونکہ اس کی آبادی زیادہ ہے اور یہاں سے الیکٹرل کالج کے 29 ووٹ ہیں۔ریاست میں کامیاب قرار دیے جانے والے امیدوار کے لیے لازمی ہے کہ اُسے دس فیصد سے زیادہ الیکٹرل کالج کے ووٹ ملیں۔

رپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹس کے پاس زیادہ 'محفوظ' ریاستیں ہیں۔ اس لیے ہلیری کلنٹن کو وائٹ ہاؤس پہنچنے کے لیے کم ریاستوں میں کانٹے دار مقابلے کا سامنا ہے۔

اگر وہ یہاں کامیاب ہو جاتی ہیں تو کامیابی کے لیے الیکٹرل کالج کے 270 مطلوبہ ووٹ لینے کا سفر آسان ہو جائے گا۔

لیکن فلوریڈا کے نتائج کے بارے میں قبل از وقت کچھ اندازہ لگانا مشکل ہے۔ یہاں ہسپانوی ووٹروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

ہسپانوی امریکی ڈیموکریٹس کی حمایت کرتے ہیں لیکن کیوبا سے آنے والے امریکیوں کی اکثریت بھی فلوریڈا میں ہے اور وہ رپبلکنز کے حامی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہے

اس وقت تک نیو ہیمپشائر کے نتائج بھی آ سکتے ہیں۔

00:30 بجے ریاست اوہائیو میں بھی پولنگ ختم ہو جائے گی۔ اوہائیو بھی ایک اور اہم ریاست ہے جہاں سخت مقابلہ ہے۔ اوہائیو میں زیادہ تر علاقائی صنعتیں زبوں حالی کا شکار ہیں اس لیے بےروزگاری اور تارکینِ وطن کا مسئلہ یہاں کے اہم مسائل ہیں۔

سنہ 1964 کے بعد سے اب نتائج کے مطابق اوہائیو میں کامیاب ہونے والا امیدوار ہی امریکہ کا صدر بنا ہے۔ اس لیے گذشتہ 13 انتخاب کے نتائج کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ سنہ 2016 کے انتخاب میں جو بھی اوہائیو کا معرکہ اپنے نام کرے گا وہی صدر براک اوباما کے بعد صدارت کی کرسی سنبھالے گا۔

گذشتہ دس صدارتی انتخاب میں اوہائیو سے پانچ بار رپبلکن اور پانچ بار ڈیموکریٹس جیتے ہیں۔

اسی وقت شمالی کیرولائنا کے ابتدائی نتائج بھی آ جائیں گے۔ اس ریاست میں ڈیموکریٹس اور رپبلکن دونوں ہی جیتے رہے ہیں۔ سنہ 2004 میں یہاں سے جارج بش کامیاب ہوئے، 2008 میں اوباما جیتے اور سنہ 2012 کے انتخاب میں مٹ رومنی کامیاب ہوئے تھے۔

شمالی کیرولائنا میں سیاہ فام امریکی اپنے ساتھ امتیازی سلوک کے حالیہ واقعات کے بعد ممکنہ طور پر ڈیموکریٹس کو ووٹ دیں گے جبکہ ریاست کے دیہی علاقوں میں غریب سفید فام ٹرمپ کو ووٹ دے سکتے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی کے کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جانے کے لیے ٹرمپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہاں سے کامیاب ہوں۔

01:00 بجے پینسلوینیا میں ووٹنگ ختم ہو جائے گی۔ یہ ریاست اقتصادی لحاظ سے اوہائیو سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ ماضی میں یہاں ڈیموکریٹس کو کامیابی ہوئی ہے۔ سنہ 1988 کے بعد سے چھ لگاتار انتخاب میں یہاں کی عوام نے رپبلکنز کو منتخب نہیں کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں صدارتی انتخاب جیتنے والے امیدوار کے لیے کم سے کم 270 الیکٹرول کالج کے ووٹ لینا ضروری ہے۔

اگر اس مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ یہاں جیت جاتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پینسلوینیا کے عوام نے اپنا رخ موڑ لیا ہے۔

02:00 بجے نیو میکسیکو میں پولنگ ختم ہو گی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نیو میکسیکو میں گذشتہ 26 صدارتی انتخاب میں سے 24 مرتبہ وہی امیدوار کامیاب ہوا ہے جو امریکہ کا صدر بنا ہو۔

پولز کے مطابق نیو میکسیکو میں ہلیری کلنٹن کو اچھی خاصی سبقت حاصل ہے۔

اسی وقت نیویارک میں پولنگ ختم ہو جائے گی۔ ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کا تعلق نیویارک سے ہے اور دونوں امیدوار ممکنہ طور پر یہاں ہی اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔

پینسلوینیا کے مقابلے میں یہاں ڈیموکریٹس کی پوزیشن زیادہ مضبوط ہے۔ آخری مرتبہ رپبلکنز کی جانب سے رونلڈ ریگن یہاں سے جیتے تھے اور پولز کے مطابق ٹرمپ کا یہاں سے جیتنے کا امکان کم ہے۔

03:00 بجے ریاست آئیووا کے ابتدائی نتائج سامنے آ جائیں گے۔ گو کہ اس ریاست سے دو مرتبہ براک اوباما کامیاب ہوئے ہیں لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یہاں ٹرمپ کی پوزیشن مستحکم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی وقت نیواڈا میں بھی پولنگ ختم ہو جائے گی۔ سنہ 1980 سے اس ریاست میں جیتنے والا امیدوار صدارتی انتخاب میں بھی کامیاب ہوا ہے

04:00 کیلی فورنیا میں پولنگ ختم ہو گی۔ اس انتخاب میں بھی اس بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے، کیلفورنیا میں ڈیموکریٹس کو ہی فتح ملے گی۔

یہاں گذشتہ چھ انتخابات میں ڈیموکریٹس ہی جیتے ہیں۔ اس ریاست کے الیکٹرل کالج میں ووٹوں کی تعداد 55 ہے۔

امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا؟

04:00 سے 05:00 جی ایم ٹی کے دوران اس بات کا اندازہ ہو جائے گا کہ سنہ 2016 کے انتخاب میں امریکہ کا صدر کون بنا ہے۔

امریکہ میں ہارنے والا امیدوار جیتنے والے امیدوار کو ٹیلی فون کر کے مبارک باد دیتا ہے اور اپنی شکست کو تسلیم کرتا ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ انتخاب میں دونوں ہی کی پوزیشن برابر ہو جائے یعنی دونوں کے پاس الیکٹرل کالج کے 269، 269 ووٹ ہوں۔ ان حالات میں امریکہ کا ایوانِ نمائندگان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ امریکہ کا اگلا صدر کون ہو گا۔

اگر دونوں امیدواروں کے درمیان فرق بہت ہی کم ہو تو پھر ضروری ہے ووٹوں کی گنتی دوبارہ کی جائے اور اس میں بہت زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔

ان حالات میں قانون پیچیدگیاں پیدا ہونے سے بہت زیادہ تاخیر ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سنہ 2000 کے صدارتی انتخاب میں امریکی ذرائع ابلاغ نے کہا کہ ایلگور ریاست فلوریڈا میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اُس کے بعد ذرائع ابلاغ نے کہا کہ جارج بش جیت گئے ہیں۔ اسی لیے سنہ 2000 میں فلوریڈا کے نتائج متنازع ہو گئے تھے۔

لیکن بعد میں جارج بش ایک الیکٹرل کالج کے صرف ووٹ کی بدولت صدر بن گئے۔

سنہ 2000 کے صدارتی انتخاب میں امریکی عوام کو یہ جاننے کے لیے کہ امریکہ کا صدر کون ہے، 13 دسمبر تک انتظار کرنا پڑا تھا۔

اسی بارے میں