2020 تک برطانوی مالیات میں ’25 ارب پاؤنڈ کی کمی‘

برطانیہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

برطانیہ کے ایک بااثر تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ رواں برس مارچ میں پیش ہونے والے بجٹ کے بعد سے برطانیہ کی عوامی مالیات میں کمی کے آثار ظاہر ہوئے ہیں جو 2020 تک 25 ارب پاؤنڈ تک بڑھ سکتے ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ فار فِسکل سٹڈیز نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ معیشت کی کمزور نمو کی وجہ سے توقع سے کم ٹیکس وصول ہوں گے، جس سے 2019 تا 2020 25 ارب پاؤنڈ مزید قرض لینا پڑ سکتا ہے۔

ادارے نے کہا ہے کہ کمزور معیشت کی پیشن گوئی کی وجہ سے 'خسارے میں خاصا اضافہ' ہو سکتا ہے۔

یہ پیشن گوئی معیشت کے بارے میں خزاں میں پیش کی جانے والی سرکاری رپورٹ سے پہلے آئی ہے۔ یہ رپورٹ 23 نومبر کو پیش کی جائے گی۔

فلپ ہیمنڈ کے چانسلر بننے کے بعد سے ان کا پہلا اہم امتحان ہو گا۔

آئی ایف ایس کے تحقیق کار ٹامس پوپ نے کہا: 'نئے چانسلر کا پہلا مالیاتی ایونٹ آسان نہیں ہو گا۔ یہ بات یقینی ہے کہ نمو کی پیشن گوئی میں کمی لائی جائے گی، جس سے خسارے میں کافی اضافہ ہو گا، چاہے وہ اس کے لیے اخراجات میں مجوزہ کمی لے بھی آئیں۔'

ہیمنڈ نے پہلے ہی کہہ رکھا ہے کہ وہ اپنے پیش رو جارج اوزبورن کی جانب سے 2020 تک کھاتے متوازن کرنے کے ہدف کی بجائے نئے گھروں اور ٹرانسپورٹ پر خرچ کو ترجیح دیں گے۔

آئی ایف ایس کے مطابق انھیں اب بڑے فیصلے کرنا پڑیں گے۔ ایک تو یہ کہ وہ معیشت کو تقویت دینے کے لیے اخراجات میں اضافہ یا ٹیکسوں میں کمی لائیں، دوسرے یہ کہ نئے مالیاتی اہداف کا اعلان کیا جائے۔

پوپ نے کہا کہ موجودہ معاشی صورتِ حال میں فلپ ہیمنڈ کو 'پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے، اور نئے مالیاتی اہداف کو خاصا لچکدار ہونا چاہیے۔'

اس کے علاوہ کئی اور اداروں نے بھی بریکسٹ کے بعد سے برطانیہ کی نمو کی پیشن گوئیوں میں کمی اور افراطِ زر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا ہے۔

گذشتہ ماہ آئی ایم ایف نے برطانیہ کی 2017 کی نمو میں 1.1 فیصد کی کمی کی پیشن گوئی کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ معیشت کی بحالی 'کمزور اور پرخطر ہو گی۔'

پچھلے ہفتے بینک آف انگلینڈ نے اس سال کے نمو کی پیشن گوئی میں ترمیم کرتے ہوئے اسے 1.8فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں