الیکشن ڈائری: امریکی انتخابات میں پاکستانی جھلک

کلنٹن اوباما تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیجیے ایک دوسرے کے کردار اور ذاتی زندگی پر جملے کسنے کا وقت ختم ہوا کیونکہ آج امریکہ یہ طے کرنے جا رہا ہے کہ اگلا صدر کون ہو گا۔

ان امریکی صدارتی انتخابات پر رپورٹنگ کے دوران بہت سے ایسے مواقع آئے جب محسوس ہوا کہ وائٹ ہاؤس پر اقتدار قائم کرنے کی جنگ جیسے مسلم لیگ نواز اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو رہی ہے۔

عمران خان کی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی انتحابی مہم کے سابق رکن شکایت کرتے نظر آئے کہ وہ کسی کی بات نہیں سنتے، چاہے اس میں ان کا خود ہی کا نقصان کیوں نہ ہو رہا ہو۔

بالکل جس طرح جب عدالتیں عمران خان کے حق میں بات کرتی ہیں تو وہ ان کی تعریف کرتے ہیں اور جب فیصلہ پسند نہ آئے تو انگلیاں اٹهاتے ہیں، اسی طرح کا رشتہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ایف بی آئی کے درمیان نظر آیا۔

ہلیری کی ای میل کی تحقیقات کا اعلان ہوا تو وہ ایف بی آئی کے چیف کے قصیدے پڑهنے لگے اور اب جب ہلیری کو ایک مرتبہ پهر بے قصور قرار دیا گیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے پرانا راگ پھر سے الاپنا شروع کر دیا ہے کہ یہ نظام ہی بدعنوان ہے۔

ٹرمپ کے حامی بهی کسی سروے، منطق یا حقائق کو تب تک سچ نہیں مانتے جب تک وہ ان کی مرضی کے مطابق نہ ہوں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو بهی لبرل امریکہ کی سیاسی بلوغت پر دھبہ بتا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تو دوسری طرف ہلیری کلنٹن کی مالی حیثیت وزیر اعظم نواز شریف کی طرح متنازع رہی۔ متعدد امریکی کلنٹن خاندان کے اثاثوں کو اسی شک کی نگاہ سے دیکهتے ہیں جس طرح پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے خاندان کےاثاثوں کو۔

کسی حد تک امریکی عوام کے لیے یہ ماننا مشکل ہے کہ سیکریٹری آف سٹیٹ کے طور پر کام کرنے والی ہلیری کلنٹن نے اپنا سرکاری عہدہ کلنٹن فاؤنڈیشن کے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا ہو گا۔

ووٹنگ سے صرف ایک ہفتے پہلے ایف بی آئی کی جانب سے ای میلز کی تحقیقات دوبارہ کرنے کے بیان کے بعد جب متعدد سرویز میں ہلیری کی برتری کو دهچکہ پہنچا تو وہ غصے پر قابو نہ پا سکیں۔

انھوں نے فوراً ایف بی آئی پر سیاسی مداخلت کا الزام لگایا جسے بیشتر ماہرین نے نامناسب بیان قرار دیا۔

بیشتر کے خیال میں کلنٹن کے ردعمل نے ریاستی اداروں پر انگلی اٹهانا کا موقع فراہم کر دیا ہے، اور جیت کی صورت میں یہ سوال بهی اٹهایا جا رہا ہے کہ آخر کلنٹن اور ایف بی آئی کے چیف مستبقل میں کیسے مل کر کام کریں گے۔

40 فیصد امریکی پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں جبکہ دیگر آج اپنا حق استعمال کر رہے ہیں۔ انتخابات کا نتیجہ تو بس اب آیا ہی چاہتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا امریکی سیاست اور جمہوریت پستی کی اس گہرائیوں سے نکل پائے گی جہاں اس انتحابی مہم نے اسے دهکیل دیا ہے؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں