انتخاب کے نتائج سے پہلے چند چیزیں جاننا ضروری ہیں

امریکہ میں ووٹنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی انتخاب میں ووٹنگ کا عمل جاری ہے اور زیادہ تر لوگ جانتے ہیں کہ اس وقت کافی کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

انتخاب میں ریاست فلوریڈا، اوہائیو اور پینسلوینیا پر خصوصی توجہ ہو گی کیونکہ ماضی کے کئی انتخابات میں یقیناً یہاں سے ملک کے ممکنہ صدر کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ تینوں ریاستیں مکمل کہانی بیان نہیں کرتی ہیں۔ آپ جب انتخاب کے نتائج کے انتظار میں ہیں تو آپ لوگوں کے چند چیزیں جاننا ضروری ہیں۔

وی فار ورجینیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جب چند لوگ یہ سوچ رہے ہوں کہ ہلیری کلنٹن ریاست جارجیا میں اپ سیٹ کر سکتی ہیں لیکن اس سے اہم یہ ہے کہ ریاست ورجینیا میں کیا ہو گا۔

ورجینیا میں جیت ہلیری کلنٹن کے لیے اہم ہو گی اور اگر ان کو وہاں کسی قسم کی گڑبڑ کے اشارہ ملتا ہے تو غیر متوقع طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کی لہر ملک بھر میں پھیلنے کے لیے تیار ہے۔

اس کے علاوہ ورجینیا میں حیران کن نتائج کا سامنے آنا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہو گی۔ 2014 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہاں کے مقبول رہنما ڈیموکریٹ کے سینیٹر مارک وارنر کو واضح برتری حاصل تھی لیکن نتائج میں انھیں رپبلکن کے امیدوار سے 0.8 فیصد ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوئی۔

اس وقت کے جائزوں کے مطابق ورجینیا میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جس میں ہلیری کلنٹن کی کوشش ہے کہ ریاست ان کی پارٹی کے پاس ہی رہے جبکہ ٹرمپ نے یہاں گذشتہ اتوار کو انتخابی مہم سے خطاب کیا تھا۔

اگر ٹرمپ یہاں سے جیت جاتے ہیں تو نتائج کے ابتدا میں ہی ہیلری کلنٹن کو مشکل میں ڈال دیں گے اور اگر یہاں وہ سخت مقابلہ بھی کرتے ہیں تو یقیناً ڈیموکریٹس کے لیے ایک طویل تکلیف دے رات ثابت ہو گی۔

شکریہ نیو ہیمشائر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

1989 میں اس وقت کے صدر جارج بش سینیئر نے سیاست میں واپس کا کریڈٹ نیو ہیمشائر کو دیا۔

اگر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کن ریاستوں میں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس میں وہ نیو ہیمشائر کے احسان مند ہو سکتے ہیں۔

اب سے ایک ہفتہ پہلے تک اس ریاست کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب تھا۔ اب کئی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی سخت مقابلہ ہو گا۔

اب بھی توقع ہے کہ ٹرمپ یہاں سے بھی الیکٹرول ووٹ حاصل کر سکتے ہیں تاہم یہاں کے الیکٹرول اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور ان کا شمار ملک کے امیر ترین طبقے میں ہوتا ہے۔ یہاں کی معیشت بہتر ہے اور بے روزگار صرف 0.3 فیصد ہے جس کی وجہ سے نیوٹرل ووٹر ٹرمپ کی معاملات کے خراب ہونے اور مستقل میں مزید خراب ہونے کی رائے سے اتفاق نہ کر سکیں۔

ایگزٹ حقوق یا حصہ نہ لینا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کی مشرقی ساحلی پٹی کے ساتھ واقع ریاستوں میں پولنگ ختم ہو گی تو اس وقت انتخاب میں جیت کے لیے درکار الیکٹرول ووٹوں کے بارے میں زیادہ بہتر تصور سامنے آنا شروع ہو جائے گا۔

اگرچہ کئی ریاستوں میں ہار اور جیت کے نتائج سامنے نہیں آتے لیکن برتری کے اشارے واضح ہونا شروع ہو جائیں گے۔

پولنگ کے بعد کے جائزوں کا شکریہ، جن سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فلوریڈا، جارجیا اور شمالی کیرولائنا میں ووٹ ڈالنے کی شرح زیادہ رہی اور اس نتائج پر کافی حد تک اثر ہو گا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ یہاں پر سیاہ فام آبادی 2008 اور 2012 کے انتخابات میں ووٹنگ کے لیے زیادہ تعداد میں باہر نکلی تھی اب گھروں سے باہر نہیں نکلی۔

مشی گن، وسکونسن اور اوہائیو میں سفید فام آبادی کی ووٹنگ میں حصہ لینے کی شرح کے بارے میں توقع ہے کہ یہ ماضی کے برعکس زیادہ ہو گی اور اگر انتخاب کے دن ایسا ہوتا ہے تو یہ اشارہ ہو گا کہ صنعتی بحران سے دوچار ریاستوں کا جھکاؤ ٹرمپ کی جانب ہے۔

مغربی ریاستیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرض کریں ٹرمپ نیو ہمشائر اور دیگر مشرقی ریاستوں میں جیت جاتے ہیں اور اپنی جیت کی راہ کو فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا تک بڑھاتے ہی تو سب کی نظریں مغربی ریاستوں پر ہوں گی۔

نیواڈا کا جھکاؤ عام طور پر ڈیموکریٹ پارٹی کے جانب ہوتا ہے اور ایریزونا تاریخی طور پر قدامت پسند رہی ہے اور ان دونوں اس وقت توجہ کی مرکز ہیں۔ ان ریاستوں کے رہائشیوں کے ہاتھوں میں قوم کا مستقبل ہو گا۔

ہلیری کلنٹن کو ریاست نیواڈا سے کافی امیدیں وابستہ ہیں لیکن رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق یہاں ٹرمپ کو برابر کی حمایت حاصل ہے یا انھیں معمولی برتری بھی حاصل ہے۔

وقت سے پہلے ووٹنگ کے جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لاس ویگاس کے اطراف کے روشن خیال طبقے پر مشتمل علاقوں میں ووٹنگ کا ٹرن آؤٹ معمول سے بہت زیادہ رہا۔

ٹرمپ کو انتخاب کے دن یہاں دیہی آبادی سے زیادہ امیدیں ہو گی جبکہ ہلیری نے ایریزونا میں قدم جمائے ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق انھیں یہاں پر ٹرمپ پر معمولی برتری بھی حاصل ہے جبکہ دونوں امیدواروں نے یہاں انتخابی مہم میں حصہ لیا اور اس انتخابی مہم کی تشہیر پر 20 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔

سینیٹ کی صورتحال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گو کہ صدارتی انتخاب کے نتائج منگل کی شب سے آنے لگیں گے۔ جس کے بعد امریکی سینیٹ میں بھی کچھ توازن آئے گا۔

اس وقت سینیٹ کی سو نشستوں میں رپبلکنز کے پاس زیادہ نشستیں ہیں۔ اگر صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن کامیاب ہوتی ہیں تو انھیں سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی برتری بھی درکار ہو گی تاکہ وہ اہم عہدوں جیسے سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی میں معاونت کرے۔

دوسری صورت میں اگر ٹرمپ کو ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں برتری ملتی ہے تو اُن کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ رپبلکن کے ایجنڈے کو بخوبی آگے بڑھا سکتے ہیں۔

تاریخی لحاظ سے تو صدارتی امیدوار کو سینیٹ میں بھی برتری ملتی ہے لیکن یہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حالیہ صدارتی الیکشن کوئی معمول کا انتخاب نہیں ہے۔ سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لینے والے رپبلکن امیدواروں نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

کئی امریکی ریاستیں جہاں کانٹے دار مقابلے کا سامنا ہے وہاں سینیٹ کے انتخابات میں بھی مقابلہ سخت ہے۔ نیو ہیمشائر، پنسلوینیا، نارتھ کیرولائنا، میسوری کے نتائج پر رپبلکنز اپنی نظریں لگائے بیٹھیں ہیں جبکہ انڈایانا اور نیواڈا دونوں کے لیے کھولی ہیں۔

سابق صدارتی امیدوار مارکو روبیو رپبلکن سیاست میں ابھرتے ہوئے امیدوار ہیں اور وہ فلوریڈا ہونے والے دوبارہ انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔آئندہ دو برسوں میں ڈیموکریٹس کو سینیٹ کی سٹیں بچانے کے لیے زیادہ محنت کرنا ہو گی اور اُس کے لیے انھیں ابھی سے کام کرنا ہو گا یا پھر سینیٹ میں اقلیت بننے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

اگر ٹرمپ اور رپبلکنز جیت جاتے ہیں تو ڈیموکریٹس کو آنے والے سیاہ دونوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں