صدارتی انتخاب کے نتائج سے یورپی بازارِ حصص بھی متاثر

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حصص بازار میں ہلیری کلنٹن کی جیت کی توقع کی جا رہی تھی

امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح نے یورپی ممالک کے بازارِ حصص کو بھی متاثر کیا ہے۔ لندن کی سٹاک مارکیٹ ابتدائی نقصان کے بعد سنبھل گئی ہے۔

لندن کے فٹسی 100 انڈیکس میں کاروبار کے شروع میں ایک اعشاریہ چار فیصد کمی دیکھنے میں آئی لیکن بعد میں صورتِ حال سنبھل گئی اور زیادہ تر وقت 6،838 پوائنٹس کے آس پاس کاروبار ہوتا رہا۔

دیگر یورپی مارکیٹوں میں البتہ کمی دیکھنے میں آئی اور سرمایہ کار اپنا سرمایہ محفوظ سٹاکس میں لگاتے ہوئے نظر آئے۔

سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ مسز کلنٹن ڈونلڈ ٹرمپ کو ہرانے میں کامیاب ہو جائیں گی اور اگلی ٹرم کے لیے امریکہ کی صدر بن جائیں گی۔

فرانس کا کاکس اور جرمنی کا ڈیکس انڈیکس بھی سنبھل رہے ہیں اور ابتدا میں ہونے والے بھاری نقصانات کے بعد اب سے ذرا دیر پہلے تک ایک فیصد کی کمی پر کاربار کر رہے تھے۔

تجزیہ کار امریکہ صدارتی انتخابات کے بعد مارکیٹ کو پہنچنے والے دھچکے کا جون میں بریکسٹ ریفرینڈم کے بعد مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں کے ساتھ موازنہ کر رہے ہیں۔

تاہم اس بات سٹاک مارکیٹ اور کرنسی کو پہنچنے والے دھچکا اتنا شدید نہیں جتنا بریکسٹ کے موقع پر تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لندن کے فٹسی 100 انڈیکس میں کاروبار کے شروع میں ایک اعشاریہ چار فیصد گراوٹ دیکھنے میں آئی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی لیڈ کے پیشِ نظر امریکی سٹاک مارکیٹ میں گزشتہ رات کمی دیکھنے میں آئی۔ تاہم امید ہے کہ ڈاؤ جونز انڈیکس ہونے والی کمی دو فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

اس سے پہلے امریکی صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے سامنے آنے کے نتیجے میں ایشیائی حصص بازار میں ہلچل نظر آئی ہے۔

جاپان اور آسٹریلیا کے حصص بازار ابتدا میں اگرچہ کل کی قیمتوں کے مقابلے زیادہ قیمتوں پر کھلے تاہم اس خطے کے بیشتر بازاروں میں گراوٹ نظر آ رہی ہے۔

کرنسی کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ میکسیکو کے پیسو کی قیمت میں کمی آئی ہے تو جاپان کی کرنسی ین کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

حصص بازار کے تاجروں نے ہلیری کی جیت کی توقع کی تھی ایسے میں اگر مقابلہ سخت بھی ہو تو بازار گراوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔

جاپان سٹاک ایکسچینج نیکئی میں 2.8 فیصد کی کمی آئی ہے جبکہ ہانگ کانگ کا بازار ہان سینگ 1.9 فیصد نیچے چلا گيا ہے اور شنگھائی کمپوزٹ 0.7 فیصد نیچے ہے۔

آسٹریلیا کے بازار اے ایس ایکس 200 میں 1.8 فیصد کی گراوٹ آئی ہے جبکہ جنوبی کوریا کے بازار کوپسی میں 1.6 فی صد کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جاپان کے سٹاک ایکسچينج میں ابتدائی اچھال کے بعد کمی واقع ہوئي ہے

اس سے قبل وال سٹریٹ اور یورپی بازار اونچی قیمتوں پر بند ہوئے تھے۔

میکسیکو کی کرنسی میں ڈالر کے مقابلے میں آنے والے اتار چڑھاؤ کو بعض ماہرین امریکی انتخابی نتائج کے اشاریے کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ اگر مسٹر ٹرمپ کی جیت ہوتی ہے تو میکسیکو کو نقصان ہو سکتا ہے کیونکہ انھوں نے امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کرنے اور تجارتی معاہدے کی بات کہی ہے۔

دوسری جانب جاپان کے پیسے میں مضبوطی کا مطلب یہ ہے کہ صارفین نے اس بین الاقوامی ہلچل کے دوران ین پر بھروسہ کیا ہے اور وہ ہلیری کی کامیابی کے امکان کو کم ہوتا دیکھ رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں