نہ ہلیری نہ ٹرمپ کا، سب کیا دھرا عسکری کا

ہلیری تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہمارے ساتھی حسین عسکری کو ایک خداداد صلاحیت حاصل ہے۔ اور وہ صلاحیت یہ ہے کہ جب وہ کسی ’منفی‘ چیز کی پیشگوئی کرتے ہیں تو وہ سچ ثابت ہوجاتی ہے۔ منفی اس لیے کیونکہ ان کی کبھی لاٹری نہیں لگی گو وہ ہفتے میں دو مرتبہ لاٹری ضرور خریدتے ہیں اور اس کے نمبروں کی پیش گوئی کرتے ہیں لیکن کبھی دو پاؤنڈ سے زیادہ جیت نہیں سکے۔

لیکن جب تمام تجزیاتی پنڈت کہہ رہے تھے کہ برطانوی عوام یورپی یونین سے نکلنے یا بریگزٹ کے حق میں فیصلہ نہیں کریں گے، حسین نے کہا کہ بریگزٹ ہوجائے گا۔۔۔ اور یہی درست ثابت ہوا۔

کل رات تک سارے شہری بابو اپنے تجزیوں میں کہہ رہے تھے کہ ہلیری کو معمولی سبقت حاصل ہے، لیکن حسین کہہ رہے تھے، ’مجھے لگتا ہے ٹرمپ جیت جائے گا۔‘ اور ان کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔ تو انھیں بددعا دینے میں کمال حاصل ہے۔

اب امریکہ سے لے کر جبوتی تک اور اسلام آباد سے لیکر ٹمبکٹو تک ہزاروں لوگ لاکھوں تجزیے کریں گے، کوئی ہلیری کلنٹن کی مہم میں کوتاہیوں کا ذکر کرے گا، کوئی ڈیموکریٹک صدر براک اوباما کی ناکامیوں کو مورد الزام ٹھہرائے گا تو کوئی ڈونلڈ ٹرمپ کی بے تہاشا دولت کو ان کی جیت میں اہم ثابت کرے گا۔

لیکن کوئی حسین سے نہیں پوچھے گا کہ آپ کیسے تمام کنفیوژن کو چیر کر درست نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں؟

اصل میں اگر فلسفیانہ توجیہات کو چھوڑ کر، نظریاتی خوش فہمیوں کو بالائے طاق رکھ کر سیدھے انداز سے دیکھا جائے تو عام انسان کی سوچ اور عمل کو سمجھنا آسان ہوجاتا ہے اور حقیقت یہی ہے کہ عام انسان لگ بھگ پوری دنیا میں تھوڑے سے فرق سے ایک ہی انداز میں سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان دنوں دنیا بھر میں کٹر قوم پرستی، نسل پرستی اور مذہب پرستی عوام کا محبوب مشغلہ ہے۔ چار پانچ دہائیاں قبل عوام مارکسزم، انقلاب اور مزدور طبقے کی اجارہ داری کے دلدادہ تھے۔ اب اس کی کیا وجہ ہے اور کیوں لوگ اس طرح بہہ جاتے ہیں؟ ان باتوں کے تجزیے اور وضاحت کرنے کا فی الحال نہ موقع ہے اور نہ اس چھوٹے سے مضمون میں گنجائش۔

لیکن روس سے لے کر شام تک اور برطانیہ سے لے کر پاکستان تک لوگوں اور حکومتوں کے اقدامات کے پیچھے اہم محرک یکساں ہیں۔ میری ایک امریکی دوست نے مجھے اختتام ہفتہ الیکشن کا وٹس ایپ تجزیہ کرتے ہوئے کہا ’تمام نسل پرست، ریڈ نیک سفید فام امریکی ٹرمپ کو چاہتے ہیں۔‘

مجھے ان کی بات سن کر برطانیہ کی دوسری جنگ عظیم کے دوران رہنما، ونسٹن چرچل کا ایک فقرہ یاد آگیا۔ انھوں نے کہا تھا، جمہوریت کے خلاف بہترین دلیل آپ کو ایک عام ووٹر کے ساتھ پانچ منٹ کی گفتگو میں مل جائے گی۔

اسی بارے میں