مشرقِ وسطیٰ ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کا منتظر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ کا صدر منتخب ہونے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے کئی رہنماؤں نے انھیں مبارکباد دی ہے لیکن کئی ممالک کے سربراہان منتظر ہیں کہ خطے کے مسائل کے بارے میں امریکہ کی طویل مدت سے جاری پالیسی میں کیا تبدیلی آتی ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں نے نومنتخب امریکی صدر کے بعد ردعمل جاننے کی کوشش کی ہے۔

عراق اور شام: کوئنٹن سمرویل، موصل

عراق کے شہر موصل میں دولتِ اسلامیہ سے جاری لڑائی اور حکومتی آپریشن پر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے فرق نہیں پڑے گا۔

عراقی افواج موصل کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پسپا ہو رہی ہے۔

گو کہ عراقی افواج کی حکمتِ عملی پر کافی تنقید ہو رہی ہے لیکن پھر بھی ان کا آپریشن سود مند ثابت ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عراق میں پانچ ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔

لیکن شام میں معاملہ کچھ مختلف ہے۔ ٹرمپ پہلے ہی امریکہ اور معتدل باغیوں کی شراکت داری پر سوال اُٹھا چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے معاملات میں انھوں نے شام کے صدر بشار الاسد کے قریبی اتحادی روس کے ساتھ زیادہ تعاون کرنے پر زور دیا تھا۔

اسرائیل اور فلسطین: تھامس فیسی یروشلم

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ٹرمپ کو مبارکباد دی اور اُن کی تعریف کرتے ہوئے 'انھیں اسرائیل کا سچا دوست' قرار دیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ وہ 'خطے میں امن و استحکام اور تحفظ بڑھانے کے لیے اُن کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔'

اسرائیلی کی جانب سے یروشلم کے میئر نے سب سے پہلے ٹرمپ کو مبارکباد دی۔ ٹرمپ کی مہم چلانے والوں نے کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ مقدس شہر کو 'اسرائیلی ریاست کے غیر منقسم دارالحکومت' کے طور پر تسلیم کرے گا۔

ٹرمپ کے کیمپ کے اس بیان سے فلسطین ناراض ہو سکتا ہے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل میں مشرقی یروشلم فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنے۔

فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اُن کے دور میں 'امن' آئے گا۔

ابھی بہت زیادہ غیر یقینی کی صورتحال ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور فلسطین کے تنازع پر دو ریاستی حل کی حمایت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اسرائیل میں ٹرمپ کے حامیوں نے اُن کے حق میں ایک ریلی منعقد کی تھی۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ خطے میں امن اُس وقت ممکن ہو گا جب فلسطینی اپنے دل سے اسرائیل کے لیے تشدد اور نفرت کا خاتمہ کریں گے۔

غزہ کے علاقے کو کنٹرول کرنے والے فلسطینی گروہ حماس کے ترجمان نے کہا کہ فلسطینی عوام کو امریکہ میں صدرات تبدیل ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ فلسطین کے لیے امریکہ کی پالیسی تعصب پر مبنی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے پالیسی کا جائزہ لیں گے اور فلسطینی مسائل کے لحاظ سے اُس میں توازن لائیں گے۔

اسرائیل میں سخت گیر موقف رکھنے والوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ٹرمپ غربِ اردن میں نئی یہودی آبادکاریوں کی مخالفت میں بیان نہیں دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین جوہری معاہدہ ختم نہیں ہو سکتا۔

ایران: محسن اضغری، تہران

گو کہ بہت سے ایرانیوں کے لیے ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک کپڑے کے دو حصے ہیں لیکن پھر بھی غیر متوقع انتخابی نتائج پر وہ حیران ضرور ہیں۔

ایک سیاسی کارکن نے کہا کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب کے نتائج میں اُن کا ردعمل بالکل ویسا ہی جیسا یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے وقت تھا۔

کئی ایرانیوں کے خیال میں ایران کے جوہری معاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے ٹرمپ کے صدارتی دور میں زیادہ مسائل ہوں گے۔

سابق ایرانی صدر اکبر رفسنجانی نے رپبلکن صدارتی امیدوار کو ایسا خطرناک آدمی قرار دیا تھا جس کا کوئی اصول ہی نہ ہوں۔

بعض ایرانی سیاستدان سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ میں بین الاقوامی برادری پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت براک اوباما کے مقابلے میں کم ہے۔

اس لحاظ سے ٹرمپ کا صدارتی دور وہ اہم موقع سے تعبیر کرتے ہیں۔

خلیجی ممالک: فرینگ گارڈنر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے بغیر وقت ضائع کیے ٹرمپ کو مبارکباد دی اور امید کا اظہار کیا کہ اُن کے دور میں مشرقِ وسطی میں امن آئے گا۔

امریکہ کے اتحادی ممالک کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی مبارکباد کے پیغامات بھجوائے۔

سعودی قیادت واشنگٹن کا جھکاؤ اپنی روایتی حریف ایران کی جانب ہونے پر بہت زیادہ پریشان تھی اس لیے انھوں نے ٹرمپ کے سخت گیر موقف کو خوش آمدید کہا۔

ذاتی لحاظ سے خلیجی ممالک کی رائے اس بارے میں منقسم ہے۔ ٹرمپ کا اسلام مخالف بیان پر یہاں برا منایا گیا تھا لیکن ابھی بھی بہت افراد انھیں ایک ایسے مضبوط لیڈر کے طور پر پسند کرتے ہیں جو اپنی رائے کا کھل کر اظہار کرتا ہو۔

مشرقِ وسطیٰ کے اخبارات اور سوشل میڈیا

علاقائی ذرائع ابلاغ میں عمومی طور پر یہ تاثر ملتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کوئی بھی آئے عربوں پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

تمام اہم عرب ٹی وی چینلز پر امریکہ کے صدارتی انتخاب کی کوریج نسبتاً متوازن تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

عرب نیوز کی ویب سائٹس نے انتخابی نتائج کو 'معجزہ' 'سیاسی زلزلہ' اور 'توقعات کے برعکس' قرار دیا۔

سوشل میڈیا پر عرب اور مسلمانوں کے بارے میں مسٹر ٹرمپ کے بیانات کو اُن نا امیدی اور نک چڑھے پن سے منسوب کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر عرب صارفین اس بات پر متفق نظر آئے کہ اُن کے مطابق امریکہ کی منفی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی گی۔

لیکن بعض افراد کے خیال میں کم سے کم ڈونلڈ ٹرمپ 'اپنے دشمن کے بارے میں واضح' ہیں جبکہ ہلیری کلنٹن ایک 'خفیہ دشمن' تھیں۔

اسی بارے میں