شام میں رقہ پر فضائی حملے، 20 عام شہری ہلاک

syria تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شام میں سرگرم حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اتحادی افواج نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ کے ایک دیہات پر فضائی حملے کیے ہیں اور ان حملوں میں کم سے کم 20 عام شہری مارے گئے ہیں۔

سیئرین آوبزویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے والوں میں چھ خواتین اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔

دولتِ اسلامیہ کے زیر قصبہ رقہ کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے امریکی حمایت یافتہ کرد اور عرب جنگجو کارروائی کر رہے ہیں۔

اتحادی افواج کے ترجمان نے اس علاقے میں فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے لیکن ترجمان کرنل جان ڈورین نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ داری کسی پر ڈالنے کے لیے 'زیادہ مخصوص اور جامع معلومات' کی ضرورت ہوتی ہے۔

اُن کے مطابق منگل کو سات حملے کیے گئے جن میں چھ یونٹس نے حصہ لیا۔ اتحادی افواج کے مطابق شدت پسندوں کی تین چوکیوں، ایک گاڑی اور بم بنانے والی فیکٹری کو ناکارہ بنایا گیا۔

کرد عرب اتحادی افواج اور شام کی افواج نے فضائی حملوں عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات مسترد کر دی ہیں۔

اس سے قبل شامی افواج نے کہا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کو رقہ میں پسپا کرنے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق رقہ سے 40 کلومیٹر شمال میں شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملے کیے گئے۔

ان حملوں میں 23 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے چار کی تصدیق ہوئی ہے۔

شام کی افواج کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقے سے 200 خاندان نقل مکانی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

علاقے سے انخلا کرنے والے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ 'دولتِ اسلامیہ کے جنگجو ہمارے دیہات میں بھاری اسلحہ لے کر آئے اور وہ ہمارے درمیان رہنے لگے۔ اگر اُن پر حملہ ہوتا ہے تو اس سے ہم بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔'

سیئرین آوبزویٹری کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران اتحادی افواج کے فضائی حملوں میں کم سے کم 680 عام شہری مارے گئے ہیں جن میں 169 بچے بھی شامل ہیں۔

جبکہ اتحادی افواج نے شام اور عراق میں سنہ 2014 سے 2016 کے دوران فضائی حملوں میں 55 شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

گذشتہ ماہ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا تھا کہ جولائی میں شام میں رقہ کے قریب منبج کے علاقے میں تین فضائی حملوں میں 100 سے زیادہ عام شہری مارے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں