’روسی جہاز کی جاسوسی کرنے والی آبدوز بھاگنے پر مجبور‘

آبدوز تصویر کے کاپی رائٹ Dutch Navy

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بحریہ کے دو بحری جہازوں نے نیدرلینڈ کی آبدوز کو بھاگنے پر مجبور کیا جب وہ بحیرہ روم میں روسی ایئر کرافٹ کیریئر کی جاسوسی کر رہی تھی۔

روس کا کہنا ہے کہ جب روسی بحری جہازوں نے اس آبدوز کو چیلنج کیا اس وقت یہ آبدوز ایئر کرافٹ کیریئر ایڈمرل کزنیسوو سے 20 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔

روس نے اپنی بحریہ بحیرہ روم میں شام میں غیر متوقع طور پر فضائی کارروائی کے آغاز کے باعث بھیجی ہے۔

نیٹو نے روسی بحریہ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ روسی بحریہ کی ذمہ دارانہ طریقے سے مانیٹرنگ کر رہی ہے۔

نیٹو کے ایک اہلکار نے کہا کہ وہ تفصیلات میں نہیں جائیں گے لیکن روسی بحریہ پر چند ہفتوں سے نظر رکھی جا رہی ہے۔

روسی بحریہ کا شمالی روس سے بحیرہ شمال سے انگلش چینل سے بحیرہ روم تک کے سفر کے باعث نیٹو میں تشویش پائی جاتی ہے۔

روسی دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی اور نیدرلینڈ کی فوج نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ آبدوز کے آپریشن کے حوالے سے تفصیلات نہیں دیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

یہ واضح نہیں ہے کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا۔ تاہم ایک اطلاع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روسی ایئر کرافت کیریئر شام کی لاذقیہ بندرگاہ سے ایک سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔

روس کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ایئر کرافٹ کیریئر کے ہمراہ دو اینٹی آبدوز جہازوں نے نیدرلینڈ کی آبدوز کی نشاندہی باآسانی کر لی تھی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اگرچہ آبدوز نے اپنی نشاندہی سے بچنے کے لیے کوشش کی لیکن روسی بحریہ نے اس آبدوز کا دو گھنٹے تک تعاقب کیا۔

نیدرلینڈ کے دفاعی تجزیہ کار جیم کیریمن کا کہنا ہے کہ اگر روس جو کہہ رہا ہے سچ ہے تو ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ 'یہ بہت حیرت کی بات ہے کہ ایک آبدوز جو خفیہ مشن پر ہے اس کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں