’یہ مجھے میرا امریکہ نہیں لگ رہا'

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکہ میں خوش آمدید۔

بیشتر تجزیوں اور جائزوں کے برعکس امریکہ پھر سے عظیم ہونے کی راہ پر چل نکلا ہے۔ امریکی عوام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا رہبر چن لیا ہے۔ اور مجھے رہ رہ کر یہ خیال آ رہا ہے کہ میں نیویارک کی جگہ کسی ٹرمپ زدہ شہر میں کیوں نہیں جہاں جشن کے سماں میں مستقبل کی بےیقینی چھپی رہتی۔

نہ ہی یہ سوال اٹھتا کہ 'کیا جدید امریکی ریاست کی بنیاد رنگ، نسل اور جنسی تعصب پر رکھی جائے گی؟'

ڈونلڈ ٹرمپ بھی واقف ہیں کہ بیشتر امریکی خوفزدہ ہیں شاید اسی لیے انھوں نے جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں سب کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی لیکن ٹائمز سکوائر میں فٹ پاتھ پر بیھٹے ڈیو کی تسلی نہیں ہوئی۔

ہلیری کی جیت کی خواہش لیے ڈیو نتائج کی رات ٹائمز سکوائر پر بڑی سیکرینوں پر کوریج دیکھنے آئے تھے۔

نتیجہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں آیا تو وہ خاصے پریشان ہو گئے۔ اسی لیے انھوں نے دفتر سے چھٹی بھی لے لی۔ کہنے لگے 'میں جس کمپیوٹر گیمینگ کمپنی میں کام کرتا ہوں وہاں میری باس نہ صرف ایک خاتون ہے بلکہ امیگرینٹ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں تو میری پریشانی بخوبی سمجھ جائے گی۔'

ڈیو ماتھے پر ہاتھ رکھے آنسو چھپاتے ہوئے بولے 'امریکہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی کیسے مار سکتا ہے۔ یہ مجھے میرا امریکہ نہیں لگ رہا۔'

ابھی ڈیو کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی کہ اچانک سے پندرہ سے بیس سیاہ فام امریکیوں کا ایک ٹولا نکلا اور ٹرمپ کی جیت کا جشن زور وشور سے منانے لگا۔

میں تصویر بنانے قریب گئی تو ایک بولا 'دیکھنا اب امریکہ کس طری سے دوبارہ دنیا کا عظیم ملک بن جائے گا۔ ہم ٹرمپ کے ساتھ ہیں۔'

وہ اونچا اونچا گانا گا رہے تھے 'گڈ بائی ہیلری'۔

امریکی سیاست کے اس بھنور میں گزرے پچھلے ایک ماہ کے کچھ قصے اب آپ کو پاکستان واپس آ کر سناؤں گی۔

اسی بارے میں