ٹرمپ پہلے کون سا وعدہ پورا کریں گے؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ میں صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کئی مرتبہ اپنی جیت کی صورت میں صدارت کے پہلے سو دن کی ترجیحات بیان کر چکے ہیں۔ اب چونکہ وہ صدارتی انتخاب جیت چکے ہیں، سوال یہ ہے کہ انھوں نے جو وعدے کیے ہیں، کیا وہ انھیں پورا کر سکتے ہیں؟

بی بی سی نے ان کے انہی وعدوں کا جائزہ لیا۔

نمبر 1: 20 لاکھ سے زیادہ غیر قانونی اور ’مجرم‘ تارکینِ وطن کی ملک بدر کے عمل کو شروع کرنا۔

یہ کرنا شاید اس لیے مشکل ہوگا کیونکہ امریکہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن میں سے صرف 178000 ایسے ہیں جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ہے اور حکومت کے زیرِ حراست نہیں۔ اگر 20 لاکھ ایسے افراد ہوتے بھی تو اس سطح پر اتنے بڑے پیمانے پر لوگوں کو ملک بدر کرنا قدرے مشکل ہوتا۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ ایسے اقدام کے لیے درکار ہزاروں اضافی اہلکاروں کو ملازمتیں دینا اور انھیں تربیت دینے کا عمل شروع کر سکتے ہیں۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس کے لیے درکار اربوں ڈالر کہاں سے آئیں گے۔

نمبر 2: امریکہ اور میکسکو کی سرحد پر دیوار بنانا

ڈونلڈ ٹرمپ کا شاید سب سے مشہور انتخابی وعدہ یہ تھا کہ وہ غیر قانونی امیگریشن روکنے کے لیے امریکہ اور میکسکو کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کروا دیں گے۔ ایسے پراجیکٹ کو شروع کرنا تو آسان ہے مگر مکمل کرنا اتنا سیدھا معاملہ نہیں۔ سرحدی سکیورٹی سخت کرنا اور امریکی سرزمین پر دیوار تعمیر کرنا ٹرمپ کے اختیارات میں ہے تاہم اس کے اخراجات اور عملی پیچیدگیوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس دیوار کی تعمیر کے لیے میکسکو پیسے دے گا۔

نمبر 3: ان ممالک کے شہریوں کو ویزے کے بغیر ملک میں داخل نہ ہونے ویا جائے جو کہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم اپنے شہریوں کو واپس نہیں لیتے۔

قانونی طور پر دیکھا جائے تو امیگریشن اینڈ نیشنیلٹی ایکٹ 1952 کے سیکشن 212 (ایف) کے تحت امریکی صدر یہ کر سکتے ہیں۔ بلکہ صدر اوباما نے اسی قانون کے تحت چند مخصوص گروہوں کے لیے ویزوں کا اجرا ممنوع کر دیا تھا۔ تاہم صدر اوباما کا یہ اقدام انتہائی مخصوص افراد کے لیے تھا جیسے کہ شام میں بشار الاسد کی حکومت کی مدد کرنے والے افراد ۔۔ اس قانون کو کھبی کسی ملک کے تمام شہریوں کے خلاف استعمال نہیں کیا گیا۔

نمبر 4: سپریم کورٹ کے بینچ پر نئے جج کی تقریری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

امریکی عدالتِ عظمیٰ کے نو ججوں میں سے ایک نشت اس وقت خالی ہے۔ صدر اوباما نے جسٹس سکلیا کی وفات کے بعد ان کا متبادل تجویز کیا تھا تاہم رپبلکن پارٹی کے کنٹرول میں کانگریس نے صدر اوباما کی تجویز پر غور کرنے سے انکار کر دیا۔ اب چونکہ ٹرمپ صدارت میں ان کی ہی جماعت کانگریس میں برسراقتدار ہوگی، ٹرمپ عدالت میں نویں جج کو فائض کر کے عدالتِ عظمی میں قدامت پسندوں کا پلڑا بھاری کر سکتے ہیں۔

نمبر 5: صدر اوباما کے ہر ایگزیکٹو حکم نامہ کو منسوخ کرنا۔

یہ سب کرنا مستقبل کے صدر ٹرمپ کے اختیارات میں ہے۔ صدر اوباما نے 32 ایگزیکٹو حکم نامے جاری کیے تھے جن میں برما کے خلاف لگائی گئی اقتصادی پابندیاں ختم کرنا بھی شامل ہے۔

نمبر 6: اوباما کیئر ختم کرنا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ٹرمپ نے صدر اوباما کی جانب سے صحت عامہ کے سلسلے میں کی گئی اصلاحات کو کئی بار انتہائی شدید کا نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے کہہ رکھا ہے کہ وہ اقتدار کے پہلے روز ہی کانگریس سے کہیں گے کہ وہ اوباما کیئر کو منسوخ کر دے۔ ریپبلکن پارٹی میں متعدد سینیئر رہنما ٹرمپ کی اس رائے سے متفق ہیں اور اب دونوں ایوانوں میں ان کی برتری بھی ہے۔ اس سب کے باوجود اوباما کیئر کو منسوخ کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ٹرمپ کو پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کی جانب سے ہنگامہ آارائی کو کو روکنے کا طریقہ سوچنا ہوگا، پھر اس قانون سے منسلک ہزاروں صفحات کے قوانین کا متبادل ڈھونڈنا ہوگا اور یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان امریکیوں کا کیا ہوگا جو کہ اوباما کیئر کے ذریعہ سستی بیمہ پالیسیاں لییے بیٹھے ہیں۔

نمبر 7: وائٹ ہاؤس حکام کے لابیئسٹ بننے پر پابندی

اگرچہ کانگریس کی حمایت کے ساتھ وہ ایسا قانون بنا سکتے ہیں مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ کانگریس کی جانب سے ایسے قانون کی منظوری کا امکان کم ہے کیونکہ اس سے ایوانِ نمائندگان کی اپنی مستقبل کی آمدنی متاثر ہو سکتی ہے۔

نمبر 8: کانگریس کے اراکین پر منتخب ہونے کی حد

کانگریس اراکین کتنی بار ایوان کے لیے منتخب ہو سکتے ہیں، اس پر حد لگانے کی تجویز پہلی مرتبہ 1994 میں ریپبلکن پارٹی نے ہی پیش کی تھی تاہم اب تک اسے عملی جامعہ نہیں پہنچایا جا سکا۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ٹرمپ ایسا کر سکیں گے یا نہیں۔ سینٹ میں اکثریتی رہنما مچ مکونل کہہ چکے ہیں ’ہمارے پاس ابھی بھی یہ حد ہے۔ اسے انتخابات کہتے ہیں۔‘

نمبر 9: اقوام متحدہ کے ماحول میں تبدیلی سے متعلق تمام پروگراموں کے لیے فنڈ کی فراہمی کی منسوخی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اس اقدام کے لیے ٹرمپ کی پارٹی میں کافی حمایت ہے۔ ان کی جماعت پیرس معاہدے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ چنانچہ اگر وہ یہ قدم اٹھانا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ مگر چونکہ امریکی ایوانِ نمائندگان اس معاہدے کی منظوری دے چکا ہے اسی لیے اب یہ بین القوامی قانون کا حصہ ہے اور امریکہ کے اس سے نکالنے میں 4 سال لگیں گے۔

نمبر 10: اس سے بچنے والے پیسے کو امریکہ میں انفراسٹکچر کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنا

انفراسٹکچر اخراجات میں اضافہ دونوں امیدواروں کے لیے ایک مقبول انتخابی وعدہ تھا۔ مگر ٹرمپ نے جو ایک ٹریلین ڈالر کا خرچہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے، اس کے لیے پیسوں کی ضرورت اور زیادہ ہوگی۔

نمبر 11: ٹیکسوں میں کمی

ٹرمپ کا یہ وعدہ رپبلکن پارٹی کا روایتی وعدہ ہے جسے ان کی جماعت میں ٹرمپ مخالفوں کی بھی حمایت حاصل ہوگی۔ سوال یہ ہے کہ کیا ٹرمپ رپلکن پارٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر کام کر سکیں گے یا نہیں۔ عموماً صدور فروری میں اپنا پہلا بجٹ پیش کرتے ہیں۔

نمبر 12: چین کو کرنسی کی ہیرا پھیری کرنے والا ملک قرار دینا

مستقبل کے صدر ٹرمپ ایگزیکٹو حکم نامے کے ذریعے یہ کام کر سکتے ہیں مگر اس سے چین کو ناراض کرنے کے علاوہ کچھ اور حاصل نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں