’ہیٹی کو خوراک کے شدید بحران کا سامنا ہے‘

ہیٹی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ ماہ سمندری طوفان میتھیو نے ہیٹی میں تباہی مچائی تھی

ہیٹی کے نگران صدر جوسلرم پریورٹ نے کہا ہے کہ عالمی برادری ان کے ملک کو طوفان سے پہنچنے والے نقصان کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے وعدوں کو نبھانے میں ناکام رہی ہے۔

صدر جوسلرم پریورٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ ماہ آنے والے سمندر طوفان میتھیو سے ہونے والے نقصان پورے ملک کے قومی بجٹ کے برابر ہے۔

جوسلرم پریورٹ کا کہنا تھا کہ ہیٹی کو 'خوراک کے شدید بحران' اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔

انھوں نے دنیا بھر کی حکومتوں سے مزید مدد کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ سمندری طوفان میتھیو نے ہیٹی میں تباہی مچائی تھی۔

کیٹیگری چار کا یہ طوفان گذشتہ ایک دہائی کے دوران کیریبین خطے میں آنے والا شدید ترین طوفان تھا جس سے ملک کا ایک بڑا حصہ تباہ اور تقریبا 21 لاکھ افراد متاثر ہوئے تھے۔

ہیٹی کی حکومت کے اندازے کے مطابق ابھی بھی 15 لاکھ افراد کو فوی امداد کی ضرورت ہے جن میں سے ایک لاکھ 40 ہزار عارضی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نگران صدر جوسلرم پریورٹ کا کہنا تھا کہ ہیٹی کو 'خوراک کے شدید بحران' اور غذائی قلت کا سامنا ہے

ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں اپنی رہائش گاہ پر گفتگو کرتے ہوئے صدر پریورٹ کا کہنا تھا کہ وہ 'ہیٹی عوام کو عالمی تعاون کی عدم دستیابی کی وجہ سے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔'

ہیٹی کے صدر نے خبردار کیا کہ طوفان میتھیو سے تباہ ہونے والی فصلوں کی دوبارہ کاشتکاری کے لیے فوری مالی امداد کے بغیر حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'اگر ہم آئندہ تین سے چار ماہ میں دوبارہ کاشتکاری نہ سکے تو ہمیں ایک خوراک کے ایک بہت بڑے بحران کا سامنا ہوگا۔'

ان کا کہنا تھا کہ کہ 'ہمارے اندازے کے مطابق ہمیں کاشتکاری کے لیے ڈھائی کروڑ ڈالر سے تین کروڑ ڈالر کے درمیان رقم درکار ہے۔ فی الحال ہمارے پاس صرف 25 لاکھ ڈالر ہیں۔'

غیرسرکاری امدادی ادارہ جے/ پی ایچ آر او سنہ 2010 سے ہیٹی میں امداد مہیا کر رہا ہے اور اس کا کہنا کہ جلد ہی شدید بحران شروع ہوسکتا ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ 'ہم نے بے انتہا بھوک دیکھی ہے۔ طوفان سے پہلے ہیٹی کو خشک سالی کا سامنا تھا چنانچہ یہاں خوراک کی قلت کی سطح پہلے ہی بہت زیادہ تھی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہیٹی کے صدر نے خبردار کیا کہ طوفان میتھیو سے تباہ ہونے والی فصلوں کی دوبارہ کاشتکاری کے لیے فوری مالی امداد کے بغیر حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں

جے/ پی ایچ آر او کی چیف ایگزیکٹیو این لی کا کہنا ہے کہ 'سینکڑوں ایکڑ فصلیں اور لاکھوں کی تعداد میں پھلوں کے درخت تباہ ہوچکے ہیں۔'

ہیٹی میں میتھیو طوفان کے ایک چند دنوں بعد ہی اقوام متحدہ نے 12 کروڑ ڈالر مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

اس کا 38 فیصد حصہ جمع کر لیا گیا تھا جس میں ایک بڑا حصہ اقوام متحدہ نے فراہم کیا تھا۔

برطانوی حکومت نے 80 لاکھ پاؤنڈ فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا جس میں سے اقوام متحدہ کی درخواست پر 13 لاکھ پاؤنڈ ادا کیے جا چکے ہیں۔

تاہم صدر پریورٹ کا اصرار ہے کہ ان کے ملک کو مزید امداد کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'عالمی برادری نے ہیٹی کی عوام کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا تھا اور سربراہان مملکت نے ہم سے رابطے کیے تھے، حکومتوں کی جانب سے ہمیں کجچھ مالی اور مادی مدد ملی لیکن یہ کافی نہیں ہے۔'

اسی بارے میں