برازیل کے صدر پر رشوت لینے کا الزام

مائیکل ٹیمر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دستاویزات کے مطابق مائیکل ٹیمر کو دو لاکھ، 95 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کی گئی تھی۔

برازیل کے صدر مائیکل ٹیمر پر سابق سیاسی حلیف سے ایک بڑی رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

برازیل کی سابق صدر جیلما روسیف کے وکلا کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے جانے والے دستاویزات میں دعوی کیا گیا ہے کہ وہ ان الزامات کو ثابت کر سکتے ہیں۔

برازیل: صدر روسیف کی عدالت سے مواخذہ روکنے کی اپیل

برازیل میں صدر کے خلاف مواخذے کی سفارش

دستاویزات کے مطابق مائیکل ٹیمر کو دو لاکھ، 95 ہزار ڈالرز کی ادائیگی کی گئی تھی۔

مائیکل ٹیمر کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات کے خدشات سامنے آنے کے بعد برازیل کی کرنسی 5.7 فیصد تک گر گئی۔

برازیل کے صدر کے خلاف رشوت لینے کے الزامات ایک تعمیراتی کمپنی کے سابق سی ای او اوٹاویو ازیویڈو نے عائد کیے ہیں۔

جیلما روسیف کے وکلا کی جانب سے جمع کروائے جانے والے عدالتی دستاویزات کے مطابق اوٹاویو ازیویڈو نے یہ رقم برازیلین ڈیموکریٹک موومنٹ پارٹی کے فنڈ میں براہ راست منتقل کی تھی۔

اوٹاویو ازیویڈو نے پلی بارگین کے تحت گواہی دی تھی کہ جیلما روسیف کو رشوت دی گئی تھی۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق منتقل کی جانے والی رقم کا چیک مبینہ طور پر مائیکل ٹیمر کی ذاتی مہم فنڈ کو دیا گیا۔

جیلما روسیف کے وکلا کا کہنا ہے کہ اوٹاویو ازیویڈو نے جھوٹ بولا تھا اور رشوت کی رقم مائیکل ٹیمر کو دی گئی لہذا ان کا مواخذاہ کیا جانا چاہیے۔

ادھر مائیکل ٹیمر کا موقف ہے کہ جیلما روسیف سربراہ تھیں اور وہ ہی خرابی کی ذمہ دار ہیں۔

برازیل کے صدر کی جماعت کا کہنا ہے کہ جماعت کو ملنے والا چندہ قانونی ہے اور اسے الیکٹورل کورٹ کے سامنے ظاہر کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ برازیل کی سابق صدر جیلما روسیف کے خلاف مواخذے کی کارروائی کے بعد انھیں ان کے عہدے سے برطرف کرنے کے بعد نائب صدر مائیکل ٹیمر صدر بن گئے تھے۔

اسی بارے میں