کیا آئیونکا ٹرمپ امریکہ کی دوسری 'فرسٹ لیڈی' ہوں گی؟

جنوری میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد ان کی بیوی میلانیا فرسٹ لیڈی بن جائیں گی۔ لیکن بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان کی بیٹی آئیونکا کئی سیاسی ذمہ داریاں سنبھال سکتی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں 35 سالہ آئیونکا ہمیشہ ان کے ساتھ رہی ہیں اور کئی سیاسی ریلیوں میں انھوں نے تقاریر بھی کیں اور ووٹ جیتنے کی کوشش بھی۔

بطور ایک ماں اور کامیاب بزنس وومن ہونے کی وجہ سے خواتین ووٹرز میں وہ کافی مقبول ہیں۔

ان کے بھائی ڈونلڈ جونیئر کا کہنا ہے کہ آئیونکا ان کے والد کی پسندیدہ بچی ہیں۔ انھوں نے انھیں 'ڈیڈیز لِٹل گرل' کہا۔

کہا جاتا ہے کہ جب وہ ساتھ نہیں ہوتے تو دونوں دن میں پانچ مرتبہ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اگرچہ فرسٹ لیڈی تو میلانیا ہی ہوں گی لیکن خیال ہے کہ زیادہ تر ذمہ داریاں آئیونکا ٹرمپ کو سونپی جائیں گی

انتخابی مہم کے دوران آئیونکا نے اپنے والد کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ ان میں سے کچھ سفر تو انھوں نے حاملہ ہونے کے دوران کیا۔

جریدے وینیٹی فیئر نے تو انھیں 'پراکسی وائف' تک کہا ہے۔

'لگتا ہے کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم امیدوار کی بیوی سے زیادہ ان کی بیٹی سے ان کا پیغام پھیلانے میں راحت محسوس کرتی ہے۔'

یہ میلانیا نہیں بلکہ آئیونکا ہی تھیں جنھوں نے امریکی صدارت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کو ریپبلیکن پارٹی کا امیدوار متعارف کرایا۔

ان کو اپنے والد کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے دی سنڈے ٹائمز میگیزین کو بتایا کہ ان کے والد ہمیشہ سے تحریکِ نسواں کے حمایتی رہے ہیں اور 'یہی بڑی وجہ ہے کہ میں آج یہاں تک پہنچی ہوں۔'

آئیونکا اپنے بھائیوں ایرک اور ڈونلڈ کی ٹرمپ تنظیم اور ٹرمپ ہوٹل چلانے میں مدد کرتی ہیں۔ انھیں خاندانی کاروبار میں وہ اختیارات دیے گئے ہیں جو ٹرمپ کی کسی بیوی کو بھی پہلے نہیں ملے۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں نے کمپنی کے بڑے سودوں میں بھی حصہ لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آئیونکا ایک کامیاب بزنس وومن ہیں اور اپنے بھائیوں کے ساتھ ملک کر ٹرمپ ہوٹلز اور ٹرمپ تنظیم چلاتی ہیں

ان کا اپنا ایک فیشن برانڈ بھی ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹ پر لکھتی ہیں کہ 'میں خواتین کو تحریک دینا چاہتی ہوں اور انھیں با اختیار بنانا چاہتی ہوں تاکہ وہ اپنی زندگیاں اس طرح تعمیر کریں جس طرح وہ چاہتی ہیں، وہ زندگیاں جو ان کی اپنی ہوں اور اپنے علاوہ کسی کی خواہشات کی متمنی نہ ہوں۔'

اگرچہ انتخابی مہم کے دوران ان کے والد پر جنسی تعصب کا الزام لگتا رہا لیکن آئیونکا نے خواتین ووٹرز کا اعتماد جیتنے کی بھرپور کوشش کی۔

جولائی میں انھوں نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا کہ 'امریکی خاندان سکون چاہتے ہیں۔'

'بچوں والی خواتین کی ترقی کی پالیسیاں کوئی عجب بات نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ معمول ہونا چاہیے۔'

'سیاستدان اجرت میں مساوات پر بات کرتے ہیں لیکن میرے والد نے اپنے تمام کیریئر میں اسے اپنی کمپنی میں معمول بنائے رکھا ہے۔'

سوشل میڈیا پر آئیونکا اپنے والد سے زیادہ محتاط ہیں۔ وہ انسٹاگرام پر اپنے خاندان کی نجی تصاویر اور متاثر کرنے والے مکالمے پوسٹ کرتی ہیں۔ ان کے ڈیڑھ لاکھ فالوورز ہیں۔

اس کے مقابلے میں مستقبل کی فرسٹ لیڈی کے بارہ سو پچاس فالوورز ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جب ایک مرتبہ ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی خواتین کو اپنی کابینہ میں شامل کریں گے تو ان کا جواب تھا کہ لوگ تو کہیں گے کہ ’آئیونکا کو رکھو، آئیونکا کو رکھو‘

آئیونکا چیلسی کلنٹن کی دوست بھی ہیں۔ اگرچہ اس دوستی میں انتخابی مہم کے دوران ذرا 'دراڑ' آ گئی تھی۔

اگست میں فرسٹ کوسٹ نیوز نے ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا تھا کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ اپنی کابینہ میں کس خاتون کو رکھیں گے تو ان کا جواب تھا: 'ہمارے پاس چننے کے لیے بہت سی خواتین ہیں۔ سبھی کہیں گے آئیونکا کو رکھو، آئیونکا کو رکھو۔'

ان کا کوئی سیاسی تجربہ نہیں ہے، لیکن ویسے تو ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی نہیں ہے، سو ہو سکتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وہ ان کے قریبی حلقوں میں رہیں۔

جب کوسموپولیٹن جریدے نے آئیونکا سے پوچھا کہ کیا وہ خود کبھی صدارتی دوڑ میں شامل ہوں گی تو انھوں نے اس سے انکار نہیں کیا۔

'میرے خیال میں نہیں، لیکن میں نے زندگی سے سیکھا ہے کہ کبھی ناں نہ کہو۔ اس سے حد مقرر ہو جاتی ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں