ڈونلڈ ٹرمپ اوباما کیئر کے کچھ حصوں پر غور کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ صدر اوباما سے ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کا ہی نیتجہ ہے کہ وہ اس ہیلتھ کیئر بل کی مکمل مخالفت سے پیچھے ہٹے ہیں

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ سابق صدر اوباما کے دور میں متعارف کرائے جانے والے ہیلتھ کیئر بل کے کچھ حصوں کو برقرار رکھنے پر غور کے لیے تیار ہیں۔

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اوباما کئیر نامی پروگرام کو ’تباہ کن‘ قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ اگر صدر بن گئے تو اس منصوبے کو سرے سے ختم کر دیں گے۔

مگر اب ان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو وائٹ ہاؤس کے دورے کے بعد وہ اس قانون کے کچھ نکات پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ اس بل کے دو اہم نکات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ’مجھے وہ بہت پسند ہیں۔‘

٭ امریکہ میں صدارتی انتخاب: خصوصی ضمیمہ

* ٹرمپ پہلے کون سا وعدہ پورا کریں گے؟

* ٹرمپ کی پالیسیاں جو دنیا بدل سکتی ہیں

ایک نکتے کے مطابق بیما پالیسی خریدنے والوں کو پہلے سے موجود مسائل کی کوریج دینے سے انکار پر پابندی عائد کرنا ہے۔ جبکہ دوسرے کے مطابق بالغ نوجوانوں کو ان کے والدین کی پالیسی کے تحت سہولیات فراہم کی جائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ صدر اوباما سے ڈیڑھ گھنٹہ ملاقات کا ہی نیتجہ ہے کہ وہ اس ہیلتھ کیئر بل کی مکمل مخالفت سے پیچھے ہٹے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’یا تو ہم اوباما کیئر میں ترمیم کریں گے یا اسے منسوخ کر کے نیا بل تیار کریں گے۔‘

یورپ اور امریکہ کے تعلقات

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

ادھر یورپی یونین کمیشن کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب سے یورپ اور امریکہ کے تعلقات متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔

جمعے کو یورپین کمیشن کے صدر جین کلاڈ ینکر نے لکسمبرگ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہمیں نو منتخب صدر کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ یورپ کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ 'اُن کی بنیاد اور ڈھانچے کے لحاظ سے' بین الابراعظمی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

یورپین کمیشن کے سربراہ کی رائے یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک کے سربراہان کے لحاظ سے مختلف ہے۔

لکسمبرگ کے اخبار کے مطابق مسٹر ینکر نے کہا کہ 'عام طور پر امریکی یورپ پر زیادہ توجہ نہیں دیتے، جہاں تک مسٹر ٹرمپ کا تعلق ہے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ اُن کے خیال میں بیلجیئم ہمارے براعظم پر موجود کوئی دیہات ہو گا۔'

انھوں نے کہا کہ 'میری ایماندارنہ رائے یہ ہے کہ ہمیں مسٹر ٹرمپ کے ساتھ دو سال ضائع کرنے ہوں گے جب تک کہ وہ دنیا کا دورہ کر کے اُسے جان نہ لیں۔'

ادھر امریکہ کے مختلف شہروں میں دوسرے روز بھی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے خلاف احتجاج جاری ہے جبکہ ریاست اوریگن کے شہر پورٹ لینڈ میں مظاہروں نے پرتشدد صورتحال اختیار کر لی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے روس سے تعلقات بہتر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، جس سے یورپی رہنما محتاط ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کو 'پیشہ ور مظاہرین' قرار دیا

انھوں نے وعدہ کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ پہلے سو دنوں میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے پیرس معاہدہ ختم کر دیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے تجارتی معاہدوں کی مخالفت، مذہب اور نسلی کی بنیاد پر متنازع بیانات سے خدشات مزید بڑھے۔

یورپی ممالک کے رہنماؤں نے رپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کو اُن کی کامیابی پر مبارکباد دی۔

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے ٹرمپ کے نام اپنے پیغام میں کہا تھا کہ امریکی اور جرمنی میں 'جمہوریت، آزادی، قانون کی بالادستی، رنگ ونسل، مذہب اور صنف کو بالائے طاق رکھ کر انسانیت کی قدر جیسی اقدار مشترک ہیں۔'

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ وہ پر اعتماد ہیں کہ اپنے انتخابی وعدوں کے برعکس مسٹر ٹرمپ ماحولیاتی تبدیلی کے معاہدے کو منسوخ نہیں کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ صدر کیسے بنے

آپ کے براؤزر پر انٹرایکٹو مواد نہیں چل سکتا۔ نتائج کے نقشے دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ ایک جدید براؤزر استعمال کریں جس پر جاوا سکرپٹ چلتا ہو۔

اسی بارے میں