یورپ اور امریکہ کے لیے تنہا آگے بڑھنا کوئی آپشن نہیں : نیٹو سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جینز سٹولٹینبرگ نے کہا کہ امریکی رہنما ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ مستحکم اور محفوظ یورپ ان کے گہرے اور سٹریٹجک مفواد میں ہے

نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹینبرگ نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا یورپ کے لیے ’تنہا آگے بڑھنا‘ کوئی آپشن نہیں ہے۔

جینز سٹولٹینبرگ نے کہا کہ مغرب نے بڑے سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔

امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مغربی فوجی اتحاد یعنی نیٹو کو ناکارہ قرار دیا تھا۔

انھوں نے مشورہ دیا تھا کہ امریکہ کو کسی بھی نیٹو اتحادی جس نے اپنے واجبات ادا نہ کیے ہوں کی مدد کے لیے دو بار سوچنا ہوگا۔

بریٹن آبزرور اخبار میں لکھتے ہوئے جینز سٹولٹینبرگ نے بعض رکن ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر مالی حصے دینے کی ضروت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کو تسلیم کیا۔ کیونکہ اس وقت امریکہ نیٹو کے تقریباً 70 فیصد اخراجات ادا کر رہا ہے۔

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ امریکی رہنما ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ مستحکم اور محفوظ یورپ ان کے گہرے اور سٹریٹجک مفواد میں ہے۔

ناروے کے سابق وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ ’آزادی، سکیورٹی اور کامیابی کو خاطر میں نہ لانا بہت آسان ہے۔ ان غیر یقینی حالات میں ہمیں مضبوط امریکی قیادت کی ضرورت ہے اور ہمیں ضرورت ہے کہ یورپ بھی برابر بوجھ اٹھائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’تنہا آگے بڑھنا نہ تو امریکہ اور نہ ہی یورپ کے لیے کوئی آپشن ہے۔ ہمیں اس وقت شدید سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ یورپ اور امریکہ کے درمیان شراکت کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس وقت امریکہ نیٹو کے تقریباً 70 فیصد اخراجات ادا کر رہا ہے

جینز سٹولٹینبرگ نے امریکہ پر ہونے والے نائن الیون کے حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نیٹو نے اپنے دفاع کی شق کا استعمال کیا جس کے لیے تمام رکن ممالک کا اس ملک کی مدد کے لیے پہنچنا ضروری ہے جس پر حملہ ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک علامت سے کہیں زیادہ ہے۔ نیٹو نے افغانستان میں آپریشن کی قیادت سنبھالی، سینکڑوں ہزاروں یورپی فوجی افغانستان میں اس کے بعد سے لڑے۔‘

’ہزاروں نے اس آپریشن کی قیمت ادا کی جو کہ براہ راست امریکہ پر حملے کے نتیجے میں شروع کیا گیا۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے پال ایڈمز نے کہا ہے کہ وقت نے دیکھا کہ جن کے جیتنے کی امید نہیں تھی اب وہ تقریباً اتحاد کے لیے خطرہ بنتے نظر آرہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوتن کی بظاہر ستائش نے اس تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعے کو صدر ولادی میر پوتن کے ترجمان نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کے ساتھ مل کر نیٹو کو روسی سرحدوں سے اپنی افواج کو واپس بلانے پر مجبور کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں