میانمار میں فوج کے ہاتھوں 25 روہنجیا مسلمان ہلاک

برما تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق روہنجیا مسلمانوں نے 130 گھروں کو نذرِ آتش کیا تاکہ غلط فہمی پیدا کی جائے

میانمار میں فوج کا کہنا ہے کہ اس نے روہنجیا مسلمانوں کے ایک گاؤں میں 25 لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

میانمار کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ اس کی فوج نے ریاست رخائن میں ان دیہات پر گن شپ ہیلی کاپٹروں سے فائرنگ کی جہاں روہنجیا مسلم اقلیت آباد ہے۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ مارے جانے والی لوگ خنجروں اور لاٹھیوں سے لیس تھے۔

فوج کے مطابق یہ حملہ مسلح عسکریت پسندوں کے خلاف ’کلیئرنس آپرشن‘ تھا۔

سوشل میڈیا پر آنے والی تصویر اور ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اس کارروائی کے باعث اتوار کو سینکڑوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی۔

ریاست رخائن میں کسی آزاد میڈیا کو رسائی حاصل نہیں ہے اس سے کسی بھی سرکاری بیان کو کافی تنقیدی نگاہ سے دیکھنا پڑتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق ’روہنجیا مسلمانوں نے 130 گھروں کو نذرِ آتش کیا تاکہ غلط فہمی پیدا کی جائے اور بین الاقومی امداد حاصل کی جا سکے۔‘

اس سے پہلے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی قافلے پر گھات لگا کر کیے گیے ایک حملے کے بعد ہونے والے تصادم میں دو فوجی اور چھ حملہ آور ہلاک ہو گئے ہیں۔

اطلات کے مطابق رخائن کے علاقے میں کچھ دیہات کو جلایا بھی گیا ہے۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی طرف سے جاری کی گئی تصاویر میں جلے ہوئے گاؤں دِکھائے گئے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں 430 عمارتوں کو جلایا گیا۔

گذشتہ ماہ جھڑپوں اور عام شہریوں کے علاقے سے چلے جانے کی اطلاعات کے بعد مواصلاتی سیارے کے ذریعے یہ تصاویر 22 اکتوبر اور 10 نومبر کے درمیان لی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس کارروائی کے باعث اتوار کو سینکڑوں لوگوں کو نقل مکانی کرنا پڑی

روہنجیا کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت ایک منصوبے کے تحت مسلمان اقلیت کو اپنے دیہات سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر کا کہنا ہے کہ روہنجیا مسلمانوں پر حملے کرنا فوج کا ایک مقبول کام ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ روہنجیا مسلمانوں کو برمی آبادی کی طرف سے بڑے پیمانے پر ناپسند کیا جاتا ہے جو انھیں بنگلہ دیش سے آئے ہوئے تارکین وطن سمجھتے ہیں۔

جھڑپوں کا تازہ ترین سلسلہ تقریباً ایک ماہ پہلے تین پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوا۔

برما کی حکومت آزاد میڈیا کو رخائن میں جانے کی اجازت نہیں دے رہی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہونے والی لڑائی کے ان دعوؤں کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں