اذان کے لیے لاؤڈ سپیکر پر پابندی، ’اسرائیلی منصوبے سے مذہبی جنگ کا خطرہ‘

غرب اردن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائيلی کابینہ نے مقبوضہ غرب اردن کے علاقے میں تعمیر کی گئی ایک غیر قانونی سکیورٹی چوکی کو بھی قانونی شکل دینے کے بل کے مسودے کو منظور کر لیا ہے۔

فلسطینی حکومت کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اسرائیل کی جانب سے مجوزہ اشتعال انگیز اقدامات کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کا سہارا لےگی۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینا کا کہنا ہے کہ غیر قانونی یہودی بستیوں کو قانونی شکل دینے اور نماز کے لیے ہونے والی اذان پر پابندی لگانے جیسے اسرائیلی منصوبوں سے 'علاقے میں تباہی پھیلے گی۔'

اتوار کے روز اسرائیل کے وزرا نے ان دو بلوں کی حمایت کی تھی جس کے تحت مغربی کنارے پر تعمیر کی گئی غیر قانونی بستیوں کے انہدام کو روکنا ہے اور دوسرے بل کے تحت مسلمانوں کی مساجد میں ہونے والی اذان پر پابندی عائد کرنا ہے۔

شور محدود کرنے کے قانون کا اطلاق تمام مذاہب پر ہو گا لیکن اس کا زیادہ اثر مسلمانوں کی جانب سے مساجد سے دی جانے والی اذانوں پر پڑے گا۔

اسرائیلی میں تقریباً 20 فیصد عرب بستے ہیں اور ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اگر اسرائیل کی حکومت نے اس بل کو منظور کر لیا تو اس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر پڑےگا۔

اس سے متعلق کابینہ کے اجلاس میں وزیرِ اعظم نتن یاہو نے کہا تھاکہ 'میں بتا نہیں سکتا کہ مجھ سے کتنی بار اسرائیل کے طول و عرض اور تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے مذہبی مقامات پر نصب لاؤڈ سپیکروں سے نشر ہونے والے شور کی شکایت کی ہے۔'

انھوں نے کہا ہے کہ 'اسرائیل ہر کسی کو شور سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیلی میں تقریباً 20 فیصد عرب بستے ہیں اور ان کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اگر اسرائیل کی حکومت نے اس بل کو منظور کر لیا تو اس کا سب سے زیادہ اثر مسلمانوں پر پڑےگا۔

ایک مقامی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق فلسطین میں وقف اور مذہبی امور کے وزیر یوسف ایدیس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس منصوبے سے مذہبی جنگ کا خطرہ ہے۔

ابو رودینا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اس منصوبے کو روکنے کے لیے فلسطین عالمی برادری کی مدد لے گا۔

اسرائيلی کابینہ نے مقبوضہ غرب اردن کے علاقے میں تعمیر کی گئی ایک غیر قانونی سکیورٹی چوکی کو بھی قانونی شکل دینے کے بل کے مسودے کو منظور کر لیا ہے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ یہ پوسٹ غیر قانونی طور پر فلسطین کی نجی زمین پر تعمیر کی گئی تھی جسے ختم کیا جانا چاہیے۔ اسی وجہ سے اسرائیل نے اس کو قانونی شکل دینے کے لیے بل تیار کیا ہے۔

پیر کو عدالت نے اس چوکی کے منہدم کرنے کو موخر کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اسے 25 دسمبر تک خالی کر دیا جائے

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ نامی ایک تھنک ٹینک کی نسرین حداد حج یحییٰ نے اس پر تنقید کرتے ہوئے ایک مقامی اخبار میں لکھا کہ 'اصل مقصد شور کم کرنا نہیں ہے بلکہ شور پیدا کرنا ہے جس سے تمام معاشرہ اور یہودیوں اور عربوں کے درمیان تعلقات قائم کرنے کی کوششیں متاثر ہوں گی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں