امریکہ میں انڈین طلبا کی تعداد میں مستقل اضافہ ہوتا جا رہا ہے

Image caption ایک رپورٹ کے مطابق اس برس امریکہ میں 165918 انڈین طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس گذشتہ برس یہ تعداد 132888 تھی

امریکی اعداد و شمار کے مطابق 2015 اور 16 میں امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے انڈین طلبا کی تعداد میں 25 فیصد کا ریکارڈ اضافہ درج کیا گيا ہے۔

2016 کے 'اوپن ڈورز ڈیٹا' کا کہنا ہے کہ امریکی معیشت میں سالانہ ساڑھے پانچ ارب ڈالر سے بھی زیادہ کی شراکت انڈین طلبا کی جانب سے ہے۔

اس دوران برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے جانے والے انڈین طلبا کی تعداد میں مسلسل کمی آئی ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق پہلے کے مقابلے میں گذشتہ چار برسوں میں اس میں تقریباً 50 فیصد کی گراوٹ آچکی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک وجہ تو برطانیہ کی جانب سے سخت ویزا کے اصول ہیں جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کا استحکام بھی اس کی ایک اور وجہ ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق اس برس امریکہ میں ایک لاکھ 65 ہزار انڈین طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس گذشتہ برس یہ تعداد ایک لاکھ 32 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔ تھی۔

یہ رپورٹ انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن نے امریکی محکمہ خارجہ کے تعلیمی و ثقافتی شعبے کے تعاون سے تیار کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر گریجوئیٹ اور آپشنل پریکٹکل ٹریننگ کورسز میں مسلسل دوسرے برس بھی بھارتی طلبا کی تعداد میں سب سے زیادہ اضافہ درج کیا گیا۔

اس وقت امریکہ میں دوسرے ممالک کے زیر تعلیم طلبا میں سے پانچ لاکھ سے بھی زیادہ کا تعلق چین، انڈیا اور سعودی عرب سے ہے۔

اس فہرست میں چین اب بھی اول نمبر پر ہے اور انڈیا کے مقابلے میں چین کے طلبا کی تعداد تقریباً دگنی ہے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق اس ضمن میں انڈیا کی ترقی کی شرح چین سے کہیں زیادہ ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ایجوکیشن میں شعبہ ریسرچ کے نائب صدر راجیکا بھنڈاری نے اخبار منٹ کو بتایا کہ 'گذشتہ چند برسوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کے استحکام کی وجہ سے ان انڈین طالب علموں نے جنھوں نے اپنے منصوبے پہلے سے بنا رکھے تھے وہ امریکہ آ سکے۔'

ان کے مطابق ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ برطانیہ نے ویزا کے حصول کے قوانین سخت کر دیے ہیں اس کی وجہ سے بھی جو طلبا وہاں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند تھے وہ بھی امریکہ ہی آگئے ہوں۔

اسی برس برطانوی پارلیمان کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ امیگریشن کے تعلق سے جو حمکت عملی اپنائی گئی ہے اس سے عالمی سطح کے طلبا سے جو گراں قدر فائدہ پہنچ سکتا تھا اس کا نقصان ہورہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں