شام کے شہر حلب میں باغیوں کے خلاف فضائی کارروائی کا دوبارہ آغاز

شام، حلب تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شامی افواج نے دو ہفتوں کے محاصرے کے بعد رواں برس 22 ستمبر کو حلب کے مشرق میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے طیاروں نے تین ہفتوں میں پہلی بار حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ مشرقی علاقوں میں بمباری کی ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیرئین آبزرویٹری کے مطابق اس بمباری میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے رواں برس اکتوبر کے اوائل میں حلب میں عام شہریوں اور باغیوں کو حلب چھوڑنے کی اجازت دینے کے لیے فضائی حملوں کو روک دیا تھا۔

شام کے شہر حلب میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

شام میں رقہ پر فضائی حملے، 20 عام شہری ہلاک

شام میں ’سکول پر فضائی حملہ، 26 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں کی فضائی بمباری اور شیلنگ کی وجہ سے حلب کے مشرق میں 700 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے تھے

ادھر روس نے حلب میں فضائی حملے دوبارہ شروع کرنے کی تردید کی ہے تاہم اس کا کہنا ہے کہ اس نے شام کے دیگر علاقوں میں سر گرم جہادی گروپوں کے خلاف میزائل حملوں کا آغاز کیا ہے۔

شام میں موجود روسی بحری بیٹرے سے ایس یو 33 نامی لڑاکا طیاروں نے بحیرۂ روم کے مشرق سے پہلی بار فضائی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

روس کے ذرائع ابلاغ پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں ان طیاروں کو بمبوں کی بجائے فضا سے فضا مار کرنے والوں میزائلوں سے لیس دکھایا گیا ہے۔

شامی افواج نے دو ہفتوں کے محاصرے کے بعد رواں برس 22 ستمبر کو حلب کے مشرق میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس کارروائی کے بعد شامی افواج نے ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اور روس کے فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کو کئی مقامات سے دور دراز علاقوں میں دھکیل دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی فوج نے ایران کے حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا اور روس کے فضائی حملوں کی مدد سے باغیوں کو کئی مقامات سے دور دراز علاقوں میں دھکیل دیا تھا

شامی حکومت کے باغیوں نے اکتوبر کے آخر میں حکومتی محاصرے کو توڑنے کی کوشش میں جوائی حملہ کیا تھا تاہم ابتدائی کامیابی کے بعد ان کی پیش قدمی سست ہو گئی تھی۔

روس کے وزیرِ دفاع نے صدر ولایمر پوتن کو منگل کو دی جانے والی بریفنگ میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم اور فتح الشام، جس نے بعد میں اپنا نام تبدیل کرکے النصرا اتحاد رکھ لیا تھا کے خلاف حلب میں کیے جانے والے 'بڑے آپریشن' کا ذکر نہیں کیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ کئی ہفتوں کی فضائی بمباری اور شیلنگ کی وجہ سے حلب کے مشرق میں 700 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے تھے جب کہ راکٹ حملوں کی وجہ سے حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں بھی سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں