پولیس نے توہین مذہب کے مقدمے میں جکارتہ کے گورنر کا نام شامل کر دیا

جکارتہ گورنر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption باسوکا تجھاجہ اصلاحاتی پالیسیوں اور بدعنوانی کے خلاف اپنے سخت موقف کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں

انڈونیشیا کی پولیس نے جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیا ہے۔

’آہوک‘ کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام ہے۔

پرناما عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ 50 سالوں میں جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر ہیں۔ آئندہ برس فروری میں وہ دوسری بار گورنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

تاہم کچھ اسلامی گروہوں نے پہلے ہی قرآن کی آیت کا حوالے دیتے ہوئے لوگوں کو انھیں ووٹ نہ دینے کی اپیل کی ہے۔

مسلمان اکثریتی ملک انڈونیشیا میں اس واقعے کے سامنے آنے کے بعد شدید تناؤ پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں تقریباً ایک لاکھ سخت گیر مسلمانوں نے جکارتہ میں احتجاج کیا تھا جس میں انھوں نے گورنر کے استعفے کا مطالبہ کیا۔

تاہم پرناما اصلاحاتی پالیسیوں اور بدعنوانی کے خلاف اپنے سخت موقف کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں۔

انھیں جوکو وڈوڈو کے صدر بننے کے بعد جکارتہ کا گورنر تعینات کیا گیا تھا۔

1998 میں چین مخالف خیالات کے باعث مشتعل ہجوم نے چینیوں کی دکانوں اور مکانات کو ٹوٹ مار کے بعد نذر آتش کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں