ٹرمپ کی جیت کے بعد نفرت پر مبنی واقعات میں اضافہ

مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے کے بعد سے ان کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

نفرت پر مبنی حملوں پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے امریکہ میں ایک ہفتہ پہلے منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات کے بعد سے 437 ایسے واقعات کی اطلاع دی ہے جن میں اقلیتوں کو دھمکیوں اور گالم گلوچ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سدرن پاورٹی لا سینٹر (ایس پی ایل سی) نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک بھر میں ایسے واقعات کے لہر کی نوعیت 'زبانی کلامی ضرور ہے لیکن مکمل افسانہ نہیں۔'

اس غیرسرکاری تنظیم نے کہا ہے کہ بہت سے حملوں کے پیچھے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا ہاتھ ہے۔

پچھلے سال ایف بی آئی نے مسلمانوں کے خلاف تعصب میں 67 فیصد اضافے کی خبر دی تھی۔

ایس پی ایل سی کے سینیئر فیلو مارک پوٹوک نے کہا کہ انھوں نے ایک آن لائن فارم بنایا ہے جہاں نفرت کے شکار متاثرین اپنی شکایات کا اندراج کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ سوشل میڈیا اور اخباری رپورٹوں کا جائزہ لے کر بھی نفرت پر مبنی جرائم پر نظر رکھ رہے ہیں۔

تنظیم نے کہا ہے کہ اس نے نگرانی کے نئے طریقوں کی مدد سے پتہ چلایا ہے کہ ایسے جرائم میں اضافہ صاف ظاہر ہے۔

'ایسے بہت سے جرائم کے ڈانڈے براہِ راست ٹرمپ کی مہم سے جا کر جڑ جاتے ہیں۔'

ایس پی ایل سی نے ٹرمپ کی جانب سے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میڈیا ایگزیکیٹو سٹیون بینن کی وائٹ ہاؤس کے پالیسی ساز کی حیثیت سے تعیناتی پر بھی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ 'بریٹبارٹ نیوز کو سفیدفاموں کی نسلی قوم پرستی کی پروپیگینڈا فیکٹری بنانے میں انھی کا ہاتھ تھا۔'

نیواڈا کے سینیٹر ہیری ریڈ نے منگل کو ایوان میں تقریر کرتے ہوئے ایس پی ایل سی کے اعداد و شمار نقل کیے۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ کے انتخاب نے 'نفرت پر مبنی جرائم اور تشدد کی دھمکیوں کو ہوا دی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ ایسے جرائم کی بڑی تعداد مسلمانوں، ہسپانویوں، سیاہ فاموں، عورتوں، ہم جنس پرستوں، یہودیوں اور ایشیائیوں کے خلاف ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی دوران ریاست میساچوسٹس کے اٹارنی جنرل نے ایک ہاٹ لائن قائم کی ہے جس پر شہری 'متعصبانہ دھمکیوں، ہراسانی کے واقعات اور تشدد' کی رپورٹ درج کروا سکیں گے۔

نیویارک کے گورنر اینڈریو کیومو نے اپنی ریاست میں بھی ایسی ہی ہاٹ لائن قائم کی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'تعصب اور دھمکی آمیز رویے سے قانون کی بھرپور قوت سے نمٹا جائے گا۔'

اسی طرح کے نفرت پر مبنی جرائم کینیڈا میں بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں، حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ ان کا امریکی انتخابات سے کیا تعلق ہے۔

ٹورنٹو شہر میں ایسے نشانات آویزاں کیے گئے ہیں جن میں سفید فاموں سے کہا گیا ہے کہ وہ قوم پرست تنظیموں میں شامل ہو جائیں۔

اسی بارے میں