’جعلی خبریں چھاپ کر غلط کام نہیں کر رہا‘

جعلی خبریں

نقلی خبریں دینے والی ایک ویب سائٹ کے بانی نے کہا ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے۔

فیس بک نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ صارفین کی نیوز فیڈ میں آنے والی جعلی خبروں کو روکنے کے اقدامات کر رہا ہے۔ اس کے بعد سے ساؤتھ اینڈ نیوز نیٹ ورک کے 'چیف رپورٹر' سی آر کو اس کے بعد اپنے دفاع پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

سی آر کا اصرار ہے کہ لوگوں کو ان کی خبروں سے تفریح ملتی ہے، اور بعض میڈیا بھی ایسی خبریں نشر کرتا ہے جنھیں من گھڑت کہا جا سکتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'لوگ کوئی سرخی پڑھتے ہیں اور اسے شیئر کرنے سے قبل تصدیق کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔'

سی آر کہتے ہیں کہ انھوں نے ساؤتھ اینڈ نیوز نیٹ ورک بطورِ مذاق قائم کیا تھا، اور وہ اس کی مدد سے اپنے علاقے میں خبروں کی کوریج کے خلاف احتجاج کرنا چاہتے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد انھوں نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر ہر اس موضوع پر خبریں گھڑنا شروع کر دیں جو اس دن گرم ہوتا تھا۔

'ہمیں ہر مہینے 20 لاکھ ویوز ملنے لگے۔ نصف لوگ ایسے تھے جو ان خبروں کو سچ سمجھ کر آتے تھے جب کہ نصف ان سے محظوظ ہوا کرتے تھے۔'

جھوٹی خبروں کا پتہ چلانا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن بعض خبریں اتنی سنجیدگی سے لکھی گئی ہوتی ہیں کہ لوگ انھیں سچ مان کر شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

سی آر کی بعض نقول بھی میدان میں آ گئی ہیں جو جان بوجھ کر کوشش کرتی ہیں کہ لوگ انھیں سچا مانیں۔

کیا اس میں کوئی برائی ہے؟

سی آر کہتے ہیں: 'اس سے لوگوں کو شہ ملتی ہے کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں اس پر غور کریں اور اس کے بارے میں سوچیں۔ کیا یہ سچ ہے، کیا یہ جھوٹ ہے؟

'اگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے کہ آپ انھیں انٹرنیٹ پر جو مرضی بتائیں وہ اسے سچ مان لیں گے تو پھر انھیں اس کے نتائج بھگتنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔'

Image caption ساؤتھ اینڈ نیوز نیٹ ورک نے خبر لگائی تھی کہ سپر مون زمین سے ٹکرا سکتا ہے

ان کا اشارہ اس خیال کی طرف تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو جھوٹی خبروں کی مدد سے امریکی انتخابات جیتنے میں مدد ملی ہے۔

سی آر کہتے ہیں کہ اصل میڈیا کے ادارے بھی الزام سے بچ نہیں سکتے۔ 'وہ اصل خبریں چھاپتے ہیں لیکن اس قدر رنگ آمیزی کرتے ہیں کہ وہ جھوٹی خبر کے قریب پہنچ جاتی ہیں۔

'اگر فیس بک نقلی خبروں والی ویب سائٹوں کو سزا دینا چاہتی ہے تو انھیں اصل اداروں کو بھی سزا دینی چاہیے جو مجھ سے زیادہ برے جرائم کی مرتکب ہوتی ہیں۔'

سی آر کو اعتراف ہے کہ جب ان کی کوئی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے تو انھیں بڑی طمانیت ہوتی ہے۔ حال ہی میں انھوں نے لکھا کہ ساؤتھ اینڈ کی بندرگاہ کو چینیوں نے خرید لیا ہے۔

'میں نے اس میں بہت سے اشارے رکھ دیے کہ لوگوں کو پتہ چل سکے کہ یہ سچ نہیں ہے، حتیٰ کہ میں نے چینی کمپنی کا نام بھی شی پنگ شپنگ کمپنی رکھا۔ لیکن لوگ اسے نظرانداز کرتے چلے گئے۔ فیس بک پر زبردست بحث شروع ہو گئی۔'

اس کے بعد مقامی کونسلر نے سی آر کو فون کیا۔

'انھوں نے مجھے کہا کہ اس خبر کی وجہ سے ساؤتھ اینڈ کے بارے میں لوگوں میں دلچسپی بڑھی ہے اور ان کے خیال میں ساؤتھ اینڈ نیوز نیٹ ورک اس قصبے کے لیے اچھی خبر ہے۔'

متعلقہ عنوانات