’بریگزٹ اور صدارتی انتخاب کے بعد کٹر قوم پرستی بڑھ سکتی ہے‘

اوباما تصویر کے کاپی رائٹ EPA

امریکی صدر براک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ بریگزٹ اور امریکی صدارتی انتخاب کے بعد 'کٹر قسم کی قوم پرستی میں اضافہ' ہو سکتا ہے۔

بطور صدر یورپ کے اپنے آخری دورے کے موقعے پر یونان میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'ہمیں، ہم اور وہ جیسے قبیلہ پرستی سے خبردار رہنا چاہیے۔'

انھوں نے کہا کہ امریکہ 'نسل، مذہب اور قومیت کی بنیاد پر' ہونے والی تقسیم کے خطروں سے پوری طرح آگاہ ہے۔

انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کی وجہ یہ بتائی کہ 'امریکی چیزوں کو ہلانا جلانا چاہتے ہیں۔'

ادھر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی کے معاملے پر تنقید کے بعد اپنے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ ان کی اپنی ٹیم اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'نئی کابینہ اور دوسرے عہدوں کا انتخاب 'بے حد منظم' طریقے سے کیا جا رہا ہے۔

امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ منتقلی کے عمل کے ذمہ دار دو سینیئر ارکان کو قومی سکیورٹی کے معاملے پر اختلافات کے بعد الگ کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل صدر اوباما نے یونانی صدر الیکسس تسیپراس سے ایتھنز میں ملاقات کی۔ اس دورے میں وہ جرمنی بھی جائیں گے۔

صدر اوباما نے کہا کہ انھیں ٹرمپ کی جیت سے حیرت ہوئی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'پریشانی کے عالم میں لوگ کسی چیز سے چمٹنا چاہتے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں چاہے انھوں پوری طرح سے یقین نہ بھی ہو کہ تبدیلی سے کیا نتیجہ نکلے گا۔'

انھوں نے کہا کہ 'اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں عدم مساوات، معاشی نقل مکانی اور لوگوں کے اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات جیسے مسائل کا حل ڈھونڈنا چاہیے۔'

اوباما نے کہا کہ برطانیہ کو یورپی یونین چھوڑنے کا ریفرینڈم اور امریکی صدارتی انتخابات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ اب عام طور پر 'اپنی قومی شناخت اور دنیا میں مقام' کے بارے میں پریقین نہیں ہیں، جس کی وجہ سے دائیں بازو اور بائیں بازو دونوں جانب تحریکیں چل پڑی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اب ہمیں ان لوگوں کو مطمئن کرنا ہے جو خوفزدہ ہیں، برہم ہیں یا پھر انھیں خدشات لاحق ہیں اور یہ بڑا امتحان ہو گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی یورپی ملکوں میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ٹرمپ اقتدار میں آنے کے بعد سے بین الاقوامی معاہدوں سے پھر سکتے ہیں

صدر اوباما اس دورے میں یورپی رہنماؤں کے مستقبل میں امریکی عزم کے بارے میں خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی نیوز کے نامہ نگار جیمز رینلڈز کا تجزیہ

پہلے 30 منٹ تک اوباما اور تسیپراس نے ٹرمپ کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ تاہم جب دونوں رہنماؤں کو پھر بھی ٹرمپ کے بارے میں سوالوں کے جواب دینا پڑے تو انھوں نے بڑا محتاط انداز اختیار کیا۔

صدر اوباما دو امریکی روایات کی پیروی کر رہے تھے۔ جانے والا صدر اپنے جانشین کے بارے میں بڑے پن کا مظاہرہ کرتا ہے اور دوسرے یہ کہ امریکی صدور بین الاقوامی دوروں میں اپنے حریفوں پر تنقید نہیں کیا کرتے۔

دوسری جانب تسیپراس خود ایک عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے اور نہ ہی ان کی کتاب پڑھ رکھی ہے۔ انھوں نے صدر اوباما ہی کی لائن اختیار کیے رکھی کہ امریکہ یورپ اور نیٹو کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں