بی بی سی کا 11 نئی زبانوں میں نشریات شروع کرنے کا اعلان

Image caption نئی زبانوں میں سروسز کے آغاز کے بعد بی بی سی کی عالمی سروس انگریزی سمیت کُل چالیس زبانوں میں دستیاب ہو جائے گی

بی بی سی کی عالمی سروس نے 11 نئی زبانوں میں اپنی نشریات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کارپوریشن کے مطابق یہ سنہ 1940 کے بعد پہلی مرتبہ ہے جب بی بی سی کی نشریات میں اتنے بڑے پیمانے پر توسیع کی گئی ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس میں یہ توسیع اس مالی امداد کے طفیل ممکن ہوئی ہے جس کا اعلان حکومتِ برطانیہ نے گذشتہ سال کیا تھا۔

جن نئی زبانوں میں نشریات شروع کی جائیں گی ان میں انڈیا میں بولی جانے والی چار زبانوں پنجابی، تیلگو، گجراتی اور مراٹھی کے علاوہ افان ارومو، امہارک، کورین، تگریانیا، اگبو، یوروبا اور پڈگن زبان شامل ہیں۔

ان زبانوں میں سروسز کا آغاز سنہ 2017 سے متوقع ہے۔

اس موقع پر بی بی سی کے ڈائریکٹر ٹونی ہال کا کہنا ہے کہ 'یہ بی بی سی کے لیے تاریخی دن ہے کہ ہم سنہ 1940 کے بعد عالمی سروس کی سب سے بڑی توسیع کا اعلان کر رہے ہیں۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ' بی بی سی کی عالمی نشریات خود بی بی سی اور برطانیہ کے لیے تاج میں جڑے نگینے کی مانند ہیں۔'

ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ 'ایسے وقت میں جب ہم اپنے ایک سو سال مکمل کرنے والے ہیں تو مجھے یقین ہے کہ بی بی سی ایک ایسے نشریاتی ادارے کے طور پر اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھے گا جو باہر کی دنیا کی جانب متوجہ ہے، اور یوں ہم دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے نصف ارب ناظرین و سامعین کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ صحافت کے علاوہ عالمی سطح کے تفریحی پروگراموں سے محظوظ کرتے رہیں گے۔ آج کا دن ہمارے اس مقصد کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔'

بی بی سی کے اس نئے توسیعی منصوبے کے تحت ڈیجیٹل سروس کو فروغ دیا جائے گا جس میں موبائلز پر زیادہ مواد فراہم کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر موجودگی بھی بڑھائی جائے گی۔

سنہ 2014 میں فیس بُک پر 'پاپ اپ' سروس کی کامیابی کے بعد بدھ سے بی بی سی تھائی زبان میں براہ راست (لائیو) مکمل ڈیجیٹل سروس کا بھی آغاز کر رہی ہے۔

بی بی سی کی عالمی سروس کی سب سے بڑی توسیع میں شامل دیگر منصوبوں میں مندرجہ ذیل چیزیں شامل ہیں۔

  • انڈیا کی چار نئی زبانوں میں موبائل سروس کا آغاز جس میں ڈیجیٹل، ٹی وی اور ویڈیوز شامل ہوں گی۔
  • روسی زبان میں اپنے بلیٹن کا وقت بڑھانا اور اس کے ساتھ خطے کے دوسرے ممالک کے لیے علاقائی زبانوں میں سروس کا آعاز۔ اس کے علاوہ روسی زبان کی ویب سائٹ کی تجدید نو، نئے ڈیجیٹل فارمیٹ میں مواد کی فراہمی اور علاقے میں زیادہ سے زیادہ نامہ نگاروں کی تعیناتی۔
  • افریقہ بھر میں اپنی ٹیلیویژن سروس میں اضافہ جس میں صحرائے اعظم کے جنوبی ممالک میں مقامی ریڈیو سٹیشنوں سے شراکت کے ذریعے نئے پروگراموں کا آغاز۔
  • پوری عرب دنیا میں نئے علاقائی پروگراموں کے ذریعے بی بی سی کی عربی سروس میں اضافہ۔
  • جزیرہ نما کوریا میں اپنے سامعین کے لیے شارٹ ویووز اور میڈیم ویووز پر ریڈیو پروگراموں کا آغاز اور اس کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے زیادہ سے زیادہ مواد کی فراہمی۔
  • نئے پروگراموں اور ڈیجیٹل مواد کے لیے بی بی سی انگریزی کی عالمی سروس میں مزید سرمایہ کاری۔
  • بی بی سی کی عالمی سروس کو ڈیجیٹل دور سے مسلسل ہم آہنگ رکھنے کا منصوبہ، جس میں نئے ٹی وی بلیٹن بھی شامل ہوں گے تا کہ ناظرین کو عالمی سروس کی تمام چالیس زبانوں میں ویڈیوز کی شکل میں زیادہ سے زیادہ مواد دستیاب ہو۔
  • دنیا بھر میں بی بی سی کی موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مزید تجزیاتی مواد یا 'سلو نیوز' کی فراہمی تا کہ سامعین 'کیا ہُوا ' کے علاوہ یہ بھی جان سکیں کہ یہ 'کیوں ہُوا'۔

ایشیائی زبانیں

  • پنجابی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں میں سے ایک ہے اور پاکستان اور انڈیا کے کئی علاقوں میں یہ زبان بولنے والے موجود ہیں۔

  • گجراتی یہ زبان انڈین ریاست گجرات کی علاقائی بولی ہے تاہم اسے بولنے والے برصغیر اور دنیا کے دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔

  • تیلگو دیگر انڈین زبانوں کی طرح یہ زبان بولنے والے بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کی اکثریت آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں رہتی ہے۔

  • مراٹھی یہ انڈین ریاست مہاراشٹر کی زبان ہے اور ممبئی سمیت ریاست بھر میں بولی جاتی ہے۔

  • کوریائی شمالی اور جنوبی کوریا میں بولی جاتی ہے

BBC

بی بی سی کی عالمی سروس کی ڈائریکٹر فرانسیسکا انزورتھ نے کہا کہ ' مختلف جنگوں، انقلابوں اور عالمی تبدیلیوں کے دوران دنیا بھر میں لوگوں نے آزادنہ، قابل بھروسہ اور غیر جانبدارانہ خبروں کے لیے ہمیشہ بی بی سی پر بھروسہ کیا ہے۔ اور اب جب دنیا کے کئی علاقوں میں آزادی اظہار میں اضافے کی بجائے کمی ہو چکی ہے تو اکیسویں صدی میں بھی ہم نہ صرف اس دور کے ساتھ ہم آہنگ ہیں بلکہ ہم اتنا ہی آزاد نشریاتی ادارہ ہیں جتنا ہم ہمیشہ رہے ہیں۔'

ڈائریکٹر فرانسیسکا انزورتھ کا مزید کہنا تھا کہ 'بی بی سی کی عالمی سروس میں توسیع کا اعلان اصل میں مستقبل میں سرمایہ کاری کا اعلان ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے سامعین کی سنیں جو اب خبریں نئے انداز میں سننا پسند کرتے ہیں اور ہماری عالمی سروس کو ٹی وی پر دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اب ڈیجیٹل خبروں کا دور ہے۔ ہم ڈیجیٹل دور میں اپنا سفر تیز تر کریں گے، خاص طور اپنے نوجوان سامعین کے لیے۔ اسی طرح ہم ویڈیو بلیٹنز میں بھی سرمایہ کاری جاری رکھیں گے۔ ان تمام تبدیلیوں میں جو چیز تبدیل نہیں ہوگی وہ ہمارا یہ عہد ہے کہ ہم آزاد اور غیر جانبدارانہ صحافت جاری رکھیں گے۔'

آنے والے دنوں میں بی بی سی کی عالمی سروس خاص طور نوجوان اور خواتین سامعین کی تعداد میں اضافے پر توجہ دے گی۔

نئی زبانوں میں سروسز کے آغاز کے بعد بی بی سی کی عالمی سروس انگریزی سمیت کُل چالیس زبانوں میں دستیاب ہو جائے گی۔

اس حوالے سے بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل نے سنہ 2022 میں ادارے کے سو سال مکمل ہونے تک ادارے کی سروس کو دنیا بھر میں نصف ارب لوگوں تک پھیلانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔