اقتدار کی منتقلی میں کوئی خلل نہیں پڑا: ٹرمپ

ٹرمپ ٹیم تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'صرف میں ہی جانتا ہوں کہ حتمی (عہدیدار) کون ہوں گے'

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی کے معاملے پر تنقید کے بعد اپنے اقدامات کا دفاع کیا ہے۔ اس سے قبل خبریں آئی تھیں کہ ان کی اپنی ٹیم اختلافات کا شکار ہو گئی ہے۔

انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ 'نئی کابینہ اور دوسرے عہدوں کا انتخاب بے حد منظم' طریقے سے کیا جا رہا ہے۔'

امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ منتقلی کے عمل کے ذمہ دار دو سینیئر ارکان کو قومی سکیورٹی کے معاملے پر اختلافات کے بعد الگ کر دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ صدارتی انتخاب میں رپبلکن پارٹی کے امیدوار اور پراپرٹی ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرمتوقع طور پر ہلیری کلنٹن کو شکست دی تھی۔

انھوں نے نیو جرسی کے گورنر کرس کرسٹی کی جگہ نومنتخب نائب صدر مائیک پینس کو منتقلی اقتدار کے معاملات طے کرنے والی ٹیم کا سربراہ تعینات کردیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption میڈیا رپورٹس کے مطابق روجرز اور کرس کرسٹی کی برطرفی کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کے داما اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر ہیں

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کے داما اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر ہیں۔

کرس کرسٹی نیوجرسی کے اٹارنی جنرل تھے جب سنہ 2004 میں کشنر کے والد پر مقدمہ چلاتھا اور ریاست میں ٹیکس جوری، غیرقانونی مہم کے ذریعے چندہ اکٹھا کرنے اور شواہد میں ردوبدل کرنے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

کانگریس کے سابق رکن اور ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک روجرز نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ چھوڑ کر جار رہے ہیں۔ وہ منتقلی اقتدار میں قومی سکیورٹی کے معاملات دیکھ رہے تھے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق وہ اور قومی سکیورٹی ٹیم کے ایک اور رکن میتھیو فریڈمین کو برطرف کیا گیا ہے۔

مائیک روجرز کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ کرس کرسٹی کے قریبی ساتھی ہیں جبکہ میتھیو فریڈمین کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ پال منافورٹ کے ساتھی ہیں جنھوں نے اگست میں ٹرمپ کی انتخابی مہم کے مینجر کے طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کانگریس کے سابق رکن اور ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین مائیک روجرز نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ وہ چھوڑ کر جار رہے ہیں

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ کابینہ اور دیگر عہدوں کے بارے میں فیصلہ کر رہے ہیں اور بہت منظم انداز سے کام ہورہا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ 'صرف میں ہی جانتا ہوں کہ حتمی (عہدیدار) کون ہوں گے۔'

نیویارک کے سابق میئر روڈولف گیولیانی کو بھی ایک سینیئر عہدہ دیے جانے کے بارے میں بات کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدارتی منتقلی ہمیشہ ایک پیچیدہ عمل رہا ہے اور اس قسم کی خرابیاں معمول کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2017 کو بطور صدر حلف اٹھائیں گے۔

اسی بارے میں