امریکہ: ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس مستعفی

کلیپر تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو اشارہ دے رہے ہیں کہ انھیں اب منتقلی اقتدار کا عمل تیز کرنا ہوگا

امریکہ میں ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جیمز کلیپر نے کانگریسی پینل کو بتایا ہے کہ انھوں نے اپنا استعفی جمع کروا دیا ہے۔

انھوں نے ہاؤس انٹیلی جنس کمیٹی کو بتایا کہ 'یہ بہت اچھا احساس ہے۔'

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی حساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کی تیاری کر رہے ہیں لہذا 75 سالہ جیمر کلیپر کا اس عہدے سے مستعفی ہونا متوقع تھا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو اشارہ دے رہے ہیں کہ انھیں اب منتقلی اقتدار کا عمل تیز کرنا ہوگا۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ٹیم میں کسی قسم کے بحران کی تردید کرتے ہیں اگرچہ تاحال انھوں نے صرف دو تعیناتیاں کی ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک قریبی مشیر کیلیان کونوے نے نیویارک میں واقع ٹرمپ ٹاور میں صحافیوں کو بتایا کہ دیگر اعلانات یوم تشکر سے پہلے یا بعد میں کیے جائیں گی جس میں محض ایک ہفتہ باقی ہے۔

جیمز کلیپر نے کمیٹی کو بتایا کہ صدر اوباما کے عہدے پر برقرار رہنے تک وہ اس عہدے پر قائم رہیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میں نے اپنے استعفی گذشتہ رات جمع کروا دیا تھا اور یہ بڑا اچھا احساس تھا۔ میرے پاس 64 دن باقی بچے ہیں۔'

اس موقع پر کمیٹی کے ارکان نے انھیں مذاق میں کہا کہ انھیں مزید چار سال تک رکنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جیمز کلیپر اس عہدے پر چھ سال کے لیے تعینات رہے ہیں

خیال رہے کہ جیمز کلیپر کے اختیار میں 17 مختلف حساس ادارے ہیں جن میں سی آئی اے، ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی اور ایف بی آئی بھی شامل ہیں۔

ایک لاکھ سات ہزار سے زائد ملازمین ان کے زیراثر ہیں جبکہ اس کا کل بجٹ تقریبا 52 ارب ڈالر ہے۔

ان کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان سے چند گھنٹے قبل وائرڈ میگزین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے پیشے کی اخلاقیات پر کبھی سوال نہیں اٹھایا۔

اس عہدے پر رہتے ہوئے وہ اکثر نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) کا دفاع کرتے بھی پائے گئے، جو ان کے زیراثر خفیہ ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔

تاہم ان کا وقار اس وقت مجروح ہوا جب ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے یہ افشا کیا گیا کہ وہ کیسے امریکی شہریوں کے بارے میں معلومات جمع کرتے ہیں۔

جمعرات کو جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ مفاہمتی راستہ اختیار کریں گے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ 'روسی برتاؤ میں واضح تبدیلی' کی پیشن گوئی نہیں کر سکتے۔

جیمز کلیپر اس عہدے پر چھ سال کے لیے تعینات رہے ہیں اور اس سے قبل امریکی فضائیہ اور ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے ساتھ منسلک رہے تھے۔

اسی بارے میں