اوباما اور میرکل کا ’رولرکوسٹر رومانس‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

براک اوباما نے بطور امریکی صدر جرمنی کے اپنے چھٹے اور آخری دورے سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے بارے میں کہا ہے کہ وہ ’ممکنہ طور پر گذشتہ آٹھ سالوں میں میری قریب ترین بین الاقوامی ساتھی رہی ہیں۔‘

ان دونوں شخصیات کی تصویر جو کہ 2015 میں لی گئی اور کافی مشہور ہوئی کو ’رولرکوسٹر رومانس‘ کا نام دیا گیا۔تاہم 2008 میں جب براک اوباما صدارتی امیدوار کی حیثیت سے جرمنی گئے تھے تو انگیلا میرکل نے انھیں برینڈنبرگ گیٹ پر خطاب نہیں کرنے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

2009 میں لندن میں جی 20 کے اجلاس کے دوران عالمی معاشی بحران جو کہ اس وقت ایک اہم مسئلہ تھا لیکن براک اوباما اور انگیلا میرکل کے نظریات میں اختلاف ہونے کے باعث دونوں رہنماؤں کے تعلقات پس پردہ رہے۔

اس کے پانچ ماہ بعد انگیلا میرکل کے ایک مشیر کی جانب سے ہیلری کلنٹن کو خط لکھا گیا جس میں لکھا تھا کہ ’مس میرکل نے اوباما کی مقبولیت کے ماحول پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

تاہم اس کے باوجود دونوں کے درمیان ایک گہرا تعلق قائم ہونے لگا۔ بعض مبصرین کے خیال میں ان دونوں شخصیات میں تربیت کے لحاظ سے ایک وکیل اور ایک کیمیا دان ہے اور دونوں کا پالیسیوں کی جانب مشترکہ بنیادوں پر تجزیاتی اور عملی رویہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

دونوں کے تعلقات ایک بار پھر 2011 میں اس وقت تناؤ کا شکار ہوئے جب جرمنی نے لیبیا میں نیٹو کی مداخلت کے منصوبے کو ویٹو کیا۔

تاہم جون 2011 میں انگیلا میرکل نے امریکہ کا دورہ کیا تو صدر اوباما نے انھیں امریکہ کا آزادی کا تمغہ پیش کیا اور انھیں ’اپنا اچھا دوست اور قریبی بین الاقوامی ساتھی قرار دیا‘۔

جرمن میڈیا نے ’بہت زیادہ مہمان نوازی‘ پر محتاط انداز میں ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوالات اٹھائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چانسلر انگیلا میرکل نے کہا کہ صدر اوباما کے ساتھ کام کرنے میں ’لطف‘ آتا ہے۔ صدر بننے کے بعد جرمنی کے پہلے دورے پر انھوں نے براک اوباما کا خیرمقدم کیا اور صدر اوباما کو اس بار برینڈنبرگ گیٹ میں خطاب کرنے کا موقع ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

لیکن ایک بار پھر اکتوبر 2013 میں دونوں کے تعلقات کو ایک اور امتحان کا سامنا کرنا پڑا جب افشا ہونے والے بعض دستاویزات سے معلوم ہوا کہ امریکہ اپنے بین الاقوامی دوست رہنماؤں کی جاسوسی کرتا ہے جن میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے ذاتی موبائل فون کی نگرانی کرنا بھی شامل ہے۔

انگیلا میرکل کے اگلے امریکی دورے کے موقع پر امریکی ذرائع ابلاغ نے پریس کانفرنس کو ’سرد‘ قرار دیا تھا۔ مس میرکل کو ترجمہ کرنے والے آلات سے مسائل کا سامنا رہا تھا۔ صدر اوباما کا کہنا تھا کہ انھیں افشا ہونے والی معلومات سے ’تعلقات پر لگنے والے دھبوں پر دکھ ہے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ اور جرمنی کے تعلقات میں حالیہ دونوں میں گرم جوشی دیکھی گئی ہے۔ دونوں مل کر بہت سے مسائل جن میں امریکہ یورپ تجارتی معاہدہ، یوکرین اور پناہ گزینوں کا بحران شامل ہے پر کام کر رہے ہیں۔ جس پر صدر اوباما نے انگیلا میرکل کے ’تاریخ کی صحیح جانب ہونے پر‘ تعریف کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق رواں سال اپریل میں انگیلا میرکل نے کہا تھا کہ ’میرے لیے اس وقت صدر کے ساتھ مستقبل ماضی سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔‘

جواب میں صدر اوباما نے کہا ہے کہ ’یہ رشتہ اتنا اہمیت کا حامل ہے جتنا کے میری صدارت کے دوران تھا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں