ٹرمپ کی کابینہ، قریبی رفقا کو عہدوں کی پیشکش

سینیٹر سیشنز تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سینیٹر جیف سیشنز امریکہ میں بغیر دستاویزات کے موجود پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے خلاف ہیں اور وہ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے حق میں ہیں

امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاباما کے سینیٹر جیف سیشنز کو اٹارنی جنرل کا عہدہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کا عہدہ جنرل مائیکل فلِن کو دیا جا رہا ہے۔

سینیٹر جیف کا شمار ٹرمپ کی مہم کے دوران قریبی رفقا میں ہوتا ہے۔ سینیٹر جیف سابق پراسیکیوٹر ہیں اور وہ 1996 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔

دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فلِن کو نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر کا عہدہ پیش کیا ہے۔

واضح رہے کہ سینیٹر جیف اور جنرل مائیکل دونوں ہی اپنے متنازع بیانات کے باعث سرخیوں میں رہے ہیں۔ تاہم ان دونوں کی تعیناتی کی تصدیق ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ نے نہیں کی ہے۔

ٹرمپ نے ایوان نمائندگان کے رکن مائیک پومپیو کو سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے کی پیشکش کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنرل مائیکل کو اوباما نے ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے فارغ کیا تھا

سینیٹر جیف اور جنرل مائیکل صدارتی مہم کے آغاز ہی سے ٹرمپ کے قریبی رفقا میں سے ہیں اور ان کے خیالات ٹرمپ سے ملتے جلتے ہیں۔

سینیٹر جیف امریکہ میں بغیر دستاویزات کے موجود پناہ گزینوں کو شہریت دینے کے خلاف میں اور وہ ٹرمپ کی جانب سے میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے حق میں ہیں۔

جنرل مائیکل کو اوباما نے ڈیفنس انٹیلیجنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے فارغ کیا تھا۔ جنرل مائیکل اس وقت سے اوباما کے خلاف ہیں اور وہ ٹرمپ کے اس بیان سے متفق ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ایٹمی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات ہونے چاہیئں، روس سے تعلقات بہتر کرنے اور اسلامی شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں مزید تیزی لانی چاہیے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کے عہدے کی پیشکش کی جانے والے مائیک پومپیو نے ابتدا میں مارکو روبیو کی حمایت کی تھی لیکن صدارتی امیدوار کی دوڑ جیتنے کے بعد انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں