امریکہ: ڈونلڈ ٹرمپ نے یونیورسٹی مقدمات میں سمجھوتہ کر لیا

ٹرمپ یونیورسٹی تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یہ تصویر سنہ 2005 کی ہے جب ٹرمپ یونیرسٹی کا افتتاح ہوا تھا

نیو یارک کے اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیر فعال 'ٹرمپ یونیورسٹی' سے متعلق تین قانونی مقدمات میں ڈھائی کروڑ ڈالر کی مفاہمت کر لی ہے۔

یونیورسٹی کے سابق طلبہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مقدمات دائر کیے تھے جن کا دعوی تھا کہ مخصوص اساتذہ سے ریئل سٹیٹ بزنس کے راز سکھانے کے لیے ان سے 35 ہزار ڈالر وصول کیے گئے تھے لیکن انھیں کچھ بھی نہیں سکھایا گيا۔

ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات سے انکار کرتے تھے اور انھوں نے ان مقدمات پر کبھی بھی مفاہمت نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔

نیویارک کے اٹارنی جنرل ایرک شنائڈرمین نے اس کیس پر سمجھوتہ کرنے کے ٹرمپ کے موقف کو حیران کن تبدیلی اور طلبہ کی بڑی جیت قرار دیا۔

ٹرمپ کو اس معاملے میں جعل سازی کے تین قانونی مقدمات کا سامنا تھا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ کیلی فورنیا اور نیویارک میں واقع ان کی یونیورسٹی نے طلبہ کو گمراہ کیا اور ان سے جو وعدے کیے گئے تھے انھیں پورا نہیں کیا گیا۔

اٹارنی جنرل شنائڈرمین نے ایک بیان میں کہا: 'آج کا ڈھائی کروڑ ڈالر پر مبنی مفاہمت کا معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف میں بڑی زبردست تبدیلی اور ان کی جعلی یونیورسٹی کے 600 متاثرین کے لیے بڑی جیت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات سے انکار کرتے تھے اور انھوں نے ان مقدمات پر کبھی بھی مفاہمت نہ کرنے کی بات کہی تھی

ان کا کہنا تھا: 'ٹرمپ یونیورسٹی کے متاثرین کو آج کے نتیجے کا برسوں سے انتظار تھا اور میں خوش ہوں کہ ان کے صبر اور استقامت کو اس ڈھائی کروڑ ڈالر کے سمجھوتے سے نوازا جائے گا۔'

اس مقدمے کے تعلق سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی بار مسٹر شنائڈرمین پر بھی شدید نکتہ چینی کی تھی جنھوں نے اس کے لیے چار کروڑ ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔

انھوں نے ٹرمپ یونیورسٹی کو اول تا آخر جعلی قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ادارے نے مجبور لوگوں کے ساتھ غلط وعدے کیے تھے۔ یہ یونیورسٹی 2010 میں بند کر دی گئی تھی۔

اس سے متعلق تین مقدمات سنہ 2010 میں دائر کیے گئے تھے۔ اس میں سے دو سان تیاگو کی عدالت میں تھے جب کہ ایک نیو یارک میں۔ سان تیاگو کی ایک عدالت میں یہ کیس 28 نومبر سے شروع ہونے والا تھا تاہم اب فریقین نے آپس میں ہی حل کر لیا ہے۔

مسٹر ٹرمپ کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ انھیں اگلے برس کے اوائل تک کی مہلت دیں کیونکہ صدارتی امور کی منتقلی کے لیے انھیں وقت درکار ہے۔ وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا تھا کہ انھوں نے معاملے کے حل کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ٹرمپ پہلے اس مقدمے پر مفاہمت کے لیے تیار نہیں تھے اور ان کا اصرار تھا کہ وہ اس مقدمے کو قانونی طور پر لڑ کر کامیاب ہوں گے

اس مقدمے کی سماعت جج گونزالو کیورئیل کو کرنی تھی جو فریقین پر اس بات کے لیے پر زور دیتے رہے تھے کہ اس معاملے کو عدالت کے باہر طے کر لیا جائے تو بہتر ہے۔

لیکن ٹرمپ اس کے لیے تیار نہیں تھے اور ان کا اصرار تھا کہ وہ اس مقدمے کو قانونی طور پر لڑ کر کامیاب ہوں گے۔

جون میں انھوں نے کہا تھا: 'میں ٹرمپ یونیورسٹی کیس جیتوں گا۔ جہاں تک میرا سوال ہے تو پہلے ہی جیت چکا ہوں۔ اگر میں چاہتا تو کیس حل ہوسکتا تھا لیکن میں ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔'

اس مقدمے پر ہونے والے سمجھوتے سے واقف ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ گر چہ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ان کے پہلے کے موقف سے پوری طرح الٹا ہے لیکن پھر بھی اس کے تحت ہونے والے معاہدے میں ٹرمپ کوئی غلطی تسلیم نہیں کریں گے۔

مسٹر ٹرمپ نے جج گونزالو کیورئیل پر بھی موروثی رنجش کا الزام عائد کیا تھا۔ جج کے والدین کا تعلق میکسیکو سے ہے اور اپنی صدارتی مہم کےدوران ٹرمپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کریں گے۔ انھوں نے میکسیکو کے عوام کو مجرم اور قاتل اور ریپ کرنے والے والا کہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں