ٹرمپ کی صدارت پر شہری کی حیثیت سے بات کروں گا: اوباما

صدر اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AP

صدر اوباما نے کہا ہے کہ اگر انھیں محسوس ہوا کہ ڈونلڈ ٹرمپ بنیادی امریکی قدروں کے لیے خطرہ بن رہے ہیں تو وہ صدارات کا عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی اس پر بات کر سکتے ہیں۔

روایتی طور پر سابق امریکی صدور سیاسی میدان سے دور رہتے ہیں اور جانشینوں پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ وہ مسٹر ٹرمپ کو اپنے پروگرام کو حتمی شکل دینے کے لیے وقت دیں گی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ایک شام شہریوں کی حیثیت سے وہ کچھ موضوعات پر بات کر سکتے ہیں۔

مسٹر ٹرمپ نے اختتامِ ہفتہ اپنی کابینہ میں اہم عہدوں کے لیے امیدواروں کے انٹرویو کیے۔

صدر اوباما نے جنوبی امریکہ کے ملک پیرو کے شہر لیما میں ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدارت کے عہدے کا احترام کرنا چاہتے ہیں اور نومنتخب صدر کو یہ موقع دینا چاہتے ہیں کہ وہ بغیر کسی مداخلت کے اپنا پروگرام اور اپنی ٹیم سامنے لائیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اگر بات ہماری قومی قدروں اور مقاصد کی ہوئی اور انھوں نے محسوس کیا کہ ان عظیم مقاصد کے دفاع میں بات کرنا ضروری یا مفید ہے تو وہ اس بات کا مناسب وقت پر جائزہ لیں گے۔

صدر اوباما نے اپنے آپ کو ایک ’امریکی شہری‘ قرار دیا جو اپنے ملک کے بارے میں سوچتے ہیں۔

اپیک سربراہ کانفرنس کے اختتام پر نیوز کانفرنس کے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کا اسی طرح خوش دلی سے استعبال کریں گے جس طرح جارج بش نے ان کی انتظامیہ کا کیا تھا۔

صدر بش نے اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد اوباما کی صدارت پر تبصرہ کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ صدر اوباما کے دوسری بار صدر منتخب ہونے کے بعد انھوں نے 2013 میں سی این این کو بتایا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا کرنا اچھا ہو گا۔

اسی بارے میں