مصر: سابق صدر مرسی کی عمر قید کی سزا کالعدم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مصر کی حکومت نے سنہ 2013 میں اخوان المسلمین کو دہشت گردی تنظیم قرار دیا تھا۔

مصر کی اعلیٰ ترین عدالت نے سابق صدر محمد مرسی کی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اُن کے خلاف مقدمات کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا ہے کہ 65 سالہ سابق صدر محمد مرسی کے خلاف غیر ملکی تنظیموں کے تعاون سے دہشت گردی کی سازش کرنے کے الزامات کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

٭ مصر: اخوان المسلمین کے سربراہ کو سزائے موت

٭ مصر میں اخوان المسلمین کے 13 رہنماؤں کو سزائے موت

گذشتہ ہفتے ایک عدالت نے سنہ 2011 میں جیل توڑنے کے ایک واقعے میں سابق صدر محمد مرسی کو سنائی گئی سزائے موت کو کالعدم قرار دیا تھا

سابق صدر محمد مرسی دو مختلف مقدمات میں سنائی گئی سزا کے نتیجے میں کافی عرصے سے جیل میں قید ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2012 میں مصر میں حکومت مخالف تحریک کے بعد محمد مرسی مصر کے پہلے منتخب صدر تھے لیکن ایک سال کے بعد فوج نے اُن کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔

مرسی کی حکومت ختم کرنے کے بعد مصر کے حکام نے اُن کی جماعت اخوان المسلمین کے خلاف کریک ڈؤان شروع کیا تھا۔ مرسی کے حق میں مظاہروں اور حکومتی کریک ڈؤان میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔

گذشتہ سال مئی میں محمد مرسی سمیت اخوان المسلمین کے تین سینیئر رہنماؤں کو دہشت گردی کی سازش کرنے اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اخوان المسلمین کے سینیئر رہنماؤں سمیت تیرہ دیگر افراد کو بھی سزائے موت دی گئی تھی۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اخوان المسلمین نے سنہ 2005 میں ایک منصوبہ بنایا تھا جس کے تحت کچھ 'عناصر' کو فلسطین کی شدت پسند تنظیم حماس کے زیر انتظام چلنے والے عسکری کیمپوں اور لبنان کی تنظیم حزب اللہ اور ایران کے پاسدرانِ انقلاب کے کیمپوں میں بھیجوایا گیا تھا۔ اخوان المسلمین نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی تحریک پرامن تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

مصر کی حکومت نے سنہ 2013 میں اخوان المسلمین کو دہشت گردی تنظیم قرار دیا تھا۔

منگل کو مصر کے سرکاری اخبار الحرم کے مطابق عدالت نے مرسی اور اخوان المسلمین کے دیگر رہنماؤں سمیت سولہ افراد کی سزائے موت کو منسوخ کیا ہے۔

محمد مرسی کے وکیل نے خبر رساں ادارے اے ایف سے بات چیت میں عدالت کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرسی کے خلاف جو فیصلہ ہوا تھا 'اُس میں بہت سی قانونی غلطیاں تھیں۔'

رواں سال جون میں محمد مرسی کو ریاستی راز افشاں کرنے اور حساس معلومات قطر کو فراہم کرنے کے جرم میں 40 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

محمد مرسی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اُن کے خلاف مختلف مقدمات کی تحقیقات فوجی بغاوت کو قانونی قرار شکل دینے کی ایک کوشش ہے۔

اسی بارے میں