اردن کی سرحد پر موجود 85 ہزار شامیوں کے لیے امداد بحال: اقوام متحدہ

شام، اردن، سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شامی مہاجرین میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں

اقوامِ متحدہ نے اعلان کیا ہے کہ اردن کی سرحد پر پھنسے 85000 شامی تارکینِ وطن کے لیے امداد بحال کر دی گئی ہے۔

٭شام میں رقہ پر فضائی حملے، 20 عام شہری ہلاک

٭ امریکہ شام میں اتحادی گروہوں کو بچا رہا ہے: لاوروف

خیال رہے کہ رواں ماہ میں اب تک تارکینِ وطن کو ملنے والی یہ پہلی امداد ہوگی۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ تارکینِ وطن کو دی جانے والی امداد میں خوراک، گرم کپڑے، کمبل اور صفائی کے لیے ایک کٹ موجود ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ان تارکینِ وطن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں۔

یہ لوگ بہت ہی ابتر صورتحال میں زندگی گزار رہے ہیں اور انھوں نے صحرائی علاقے میں رہنے کے لیے کیمپ بنانے رکھے ہیں۔

خیال رہے کہ اردن نے شام کی جانب اپنی سرحد کو جون میں اس وقت بند کر دیا تھا جب شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ایک بم حملے میں اس کے سات فوجیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تب سے لے کر اب تک صرف ایک مرتبہ اگست میں رکبان اور ہادلت نامی کیمپ میں خوراک پہنچائی گئی تھی۔

منگل کو اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ وہ طویل مذاکرات کے بعد اردن کی فوج کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امداد کی بحالی سال کے سرد ترین عرصے میں ہوئی ہے جب درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہو جاتا ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگاری یولاند نِل کے مطابق شامی جنگ سے شدید متاثر ہونے والوں میں اردن کی سرحد پر موجود شامی بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اب علاقے میں طبّی مرکز قائم کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اندازوں کے مطابق اس وقت چھ لاکھ شامی پناہ گزین اردن میں موجود ہیں تاہم عمان کی حکومت نے کہا ہے کہ یہ تعدا 15 لاکھ تک پہنچنے سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں