امریکہ: کچھ ریاستوں میں ووٹوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ

پینسلوینیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پینسلوینیا جیسی ریاستوں میں رائے دھندگان نے فیصلہ کن کردار ادا کیا

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں کانٹے دار مقابلے والی ریاستوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں ہلیری کلنٹن کی شکست پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کئی سیاسی اور سماجی کارکنوں نے ان ریاستوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کارکنوں کو خدشہ ہے کہ غیر ملکی کمپیوٹر ہیکرز نے ان ریاستوں میں ووٹوں میں گڑ بڑ کی ہے۔

انتخابی اعداد و شمار کے ماہرین کے مطابق وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہلیری کلنٹن کی کارکردگی ان ریاستوں میں خاص طور پر بری کیوں رہی جہاں کاغذ کے بیلٹ پیپروں اور آنکھوں کے سکین سے ووٹروں کی شناخت کی جگہ الیکٹرانک مشینیں استعمال کی گئی تھیں۔

اگرچہ ان کارکنوں کو ہیر پھیر یا ہیکنگ کے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں، تاہم ان کا استدلال ہے کہ ووٹوں کی جانچ پڑتال ہونی چاہیے۔

یاد رہے کہ آٹھ نومبر کو جب صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ہوا تھا تو ہلیری کلنٹن نے چند گھنٹے بعد ہی ان نتائج کو تسلیم کر لیا تھا۔

ان نتائج کے مطابق ہلیری کلنٹن کو ریاست کی سطح پر ہونے والی الیکٹورل کالج کی گنتی میں 58 ووٹوں سے شکست ہو گئی تھی، تاہم عوامی یا پاپولر ووٹوں میں انھیں ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں کم از کم دس لاکھ ووٹ زیادہ ملے تھے۔

امریکی اخبار ’لاس اینجیلیس ٹائمز‘ کے مطابق اگرچہ الیکٹورل کالج کے لحاظ سے امریکہ کی سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا میں ہلیری کلنٹن کو کامیاب قرار دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک وہاں سرکاری سطح پر گنتی کا عمل مکمل نہیں ہوا ہے۔ اس کی وجہ ریاست کے پیچیدہ انتخابی قوانین ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلیری کلنٹن نے کھلے عام انتخابی نتائج پر کوئی سوال نہیں اٹھایا ہے

یاد رہے کہ امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ تلخ اور منقسم انتخابی مہم کے دوران ملک کے مرکزی تحقیقاتی ادارے ’ایف بی آئی‘ نے ان شکایات کی تفتیش کا آغاز کر دیا تھا کہ روسی ہیکروں نے ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈسٹا کی ای میلز تک رسائی حاصل کر لی تھی۔

جان پوڈسٹا کی مذکورہ ای میلز وکی لیکس نے شائع کی تھیں جن میں ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو بُرے رنگ میں پیش کیا گیا تھا۔

روزنامہ گارڈین کا کہنا ہے کہ اب ’ان کارکنوں اور تجزیہ کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘ جو مشیگن، پینسلوینیا اور وِسکانسن کی ریاستوں میں ووٹوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے امریکہ کے الیکشن کمیشن کی معاون اور الیکٹرانک ووٹنگ کی ماہر باربرا سِمنز کہتی ہیں کہ ’ میری خواہش ہے کہ ووٹوں کی تصدیق ہو۔ ہمیں بعد از انتخابات ووٹوں کی جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔‘

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ نے خبر دی ہے کہ کپمیوٹر کے کئی سائنسدانوں اور ماہرین نے ہلیری کلٹن کی انتخابی ٹیم کو نجی طور پر بتایا ہے کہ کئی ریاستوں میں رائے دہندگان کے رجحانات کے حوالے سے ان کے ذہنوں میں بھی سوالات ہیں۔ ان ماہرین میں یونیورسٹی آف مشیگن کے ’کمپیوٹر سکیورٹی و معاشرہ‘ کے شعبے سے منسلک ماہر ایلکس ہالڈرمین بھی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ماہرین کے اِس گروپ نے مسٹر پوڈسٹا کو بتایا ہے کہ جن ریاستوں میں الیکٹرانک ووٹنگ ہوئی ان میں ہلیری کلنٹن کو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں سات فیصد کم ووٹ ملے۔ ان ماہرین کو شک ہے کہ وہاں ووٹوں میں گڑ بڑ ہوئی ہے۔

اسی بارے میں