’زیادتی‘ کی شکایت کرنے والی برطانوی خاتون کا مقدمہ خارج

دبئی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تمام افراد کو پاسپورٹ واپس کر دیے جائیں گے

دبئی موجود اس برطانوی خاتون کی خلاف تمام مقدمات ختم کر دیے گئے جس کو اس وقت غیر ازدواجی تعلقات رکھنے کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا تھا جب انھوں نے یہ بتایا کہ انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس خاتون نے جب دعویٰ کیا تھا کہ اس کو دو برطانوی مردوں نے ریپ کیا تو ان کا ان کا پاسپورٹ ضبط کرکے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

دبئی کے پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہے انھوں نے 'شواہد کے انتہائی احتیاط کے ساتھ معائنے' کے بعد یہ مقدمہ ختم کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'یہ عمل تینوں مذکورہ اشخاص کی رضامندی سے ہوا تھا۔'

حکام کا کہنا ہے ان میں سے ایک شخص کی موبائل میں موجود ویڈیو کے 'کلیدی ثبوت' تھا اور ان تینوں میں کسی کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

ان تمام افراد کو پاسپورٹ واپس کر دیے جائیں گے اور انھیں متحدہ عرب امات چھوڑ کر جانے کی بھی آزادی ہوگی۔

خاتون کے والد کا کہنا تھا کہ انھیں 'متضاد کہانیاں' سننے کو ملیں کہ ان کی بیٹی کو رہا کر دیا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ دفترخارجہ نے تاحال تصدیق نہیں کی۔

پراسیکیوٹر کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ 20 سال کی عمر سے اوپر ایک خاتون نے اکتوبر کے اواخر میں ایک پولیس سٹیشن میں مبینہ ریپ کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

اطلاعات کے مطابق وہ اس وقت چھٹیاں گزارنے دبئی آئی تھیں۔

دونوں مبینہ حملہ آوروں کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے تھے لیکن ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

برطانوی تنبظیم گروپ ڈیٹینڈ اِن دبئی کے مطابق انھیں اس فیصلے سے خوشی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دبئی میں شادی کے بغیر اذدواجی تعلقات غیرقانونی ہیں

تنظیم کی طرف سے جاری کردہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ 'ہم امید کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ جو عالمی توجہ کا مستحق تھا، اس کو ختم کرنے میں انتظامیہ پر اثرانداز ہوا ہے، اور متحدہ عرب امارات اس قسم کی منفی اطلاعات سے بچ گیا ہے۔ ماضی میں دیگر کئی اتنے خوش قسمت نہیں رہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ یہ عمل مستقبل میں اس قسم کے مقدمات کے لیے ایک تاریخ ساز ثابت ہوگا۔'

پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کا کہنا ہے کہ دبئی کا قانونی نظام جرائم کے تمام مقدمات کو 'بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، خاص طور پر خواتین کے خلاف تشدد کو اور تمام واقعات کی مکمل تحقیقات کرتا ہے۔'

خیال رہے کہ دبئی میں شادی کے بغیر اذدواجی تعلقات غیرقانونی ہیں۔ اگر حکام کو جنسی تعلقات کے بارے میں علم ہو جائے تو مقدمہ بازی، جیل، جرمانے یا ملک بدری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں