روس کے میزائل شکن نظام کی تنصیب پر جاپان کو تشویش

پوتن، ابے تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جزیروں کی ملکیت کے تنازع کو حل کرنا چاہتے ہیں

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے متنازع ملکیت کے حامل علاقوں میں روس کی جانب سے جہاز شکن میزائل سسٹم کی تنصیب کو قابلِ افسوس قرار دیتے ہوئے اسے جاپانی موقف کے خلاف قرار دیا ہے۔

جاپانی وزیراعظم کا بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب چند ہفتے کے بعد جاپان کے وزیراعظم اور روس کے صدر کی ملاقات طے ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جزیروں کی ملکیت کا تنازع حل کرنا چاہتے ہیں۔

جاپان کے شمالی علاقے میں چھوٹے چھوٹے کئی جزیرے ہیں اور روس میں ان جزیروں کو کریولایئز اور جاپان ان کو شمالی ہدور کہتا ہے۔

یاد رہے کہ انھی جزیروں پر تنازعے کے سبب دوسری جنگِ عظیم میں دونوں ممالک نے امن معاہدہ پر باقاعدہ دستخط نہیں کیے تھے۔

جاپان کے وزیراعظم نے روس کی جانب سے متنازع علاقوں میں بحری جہازوں کو تباہ کرنے والے میزائل شکن نظام کی تنصیب کو تشویش ناک قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ 'چاروں شمالی جزیرے جاپانی ملکیت ہیں۔ ہم نے سفارتی ذرائع سے انھیں یہ باور کروایا ہے کہ میزائل شکن نظام کی تنصیب ہمارے ملک کی پوزیشن سے مطابقت نہیں رکھتی اور یہ افسوسناک ہے۔

روس کے ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ اس نے بحرالکاہل کے جزائر میں دو میزائل شکن نظام نصب کیے ہیں اور ان جزیروں کی ملکیت پر روس اور جاپان کے مابین گذشتہ 70 سال سے تنازع جاری ہے۔

سفارت کاری کی کوشش کے نتیجے میں روس اور جاپان کے سربراہان کے درمیان ملاقات پر اتفاق ہوا ہے اور روس کے صدر پوتن 15 دسمبر کو ٹوکیو کا دورہ کر رہے ہیں۔

سفارتی ذرائع پر امید ہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات سے تصفیہ طلب مسائل حل ہونے کا امکان ہے۔

جاپان کے وزیراعظم چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بعد ماسکو سے اقتصادی اور سیاسی تعلقات بہتر کرنے کے خواہشمند ہیں جبکہ بین الاقوامی مارکیٹ خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور کرائیمیا سے الحاق کے بعد عالمی پابندیوں کے بعد روس کی معیشت بھی کساد بازاری کا شکار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں