دولتِ اسلامیہ کا بھرتی کار پرکاش ’فضائی حملے میں مرا نہیں تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AL HAYAT MEDIA CENTER
Image caption پرکاش کو ابو خالد الکمبوڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور ان کا نام آسٹریلیا میں حملوں کی منصوبہ بندی میں لیا جاتا ہے

آسٹریلیا کا ایک شدت پسند مشرقِ وسطیٰ میں زیر حراست ہے جس کے بارے میں پہلے خیال کیا جا رہا کہ وہ مر چکا ہے۔

آسٹریلیوی حکومت نے رواں برس مئی میں کہا تھا کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم میں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے والا سینیئر رکن نیل پرکاش امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

اس وقت آسٹریلیوی اٹارنی جنرل جارج برینڈس نے کہا تھا کہ بھرتی کار پرکاش عراقی شہر موصل میں مارے گئے تاہم اب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اعلیٰ امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پرکاش زندہ ہیں۔

آسٹریلیوی براڈکاسٹنگ کارپویشن کا کہنا ہے کہ پرکاش نے کئی ہفتے قبل خود کو ترک حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

آسٹریلیوی وزیراعظم کی انسداد دہشت گردی امور پر رہنمائی کرنے والے وزیر مائیکل کینین نے کہا ہے کہ حکومت انٹیلیجنس معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتی ہے۔

انھوں نے جمعے کو ایک بیان میں کہا کہ'مئی میں امریکی حکومت کی جانب سے پرکاش کے ایک فضائی حملے میں مارے جانے پر آگاہ کرنے پر حکومت نے ان کی موت کے بارے میں مطلع کیا۔ لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ حکومت کی عراق یا شام میں ہونے والی ہلاکتوں کی اطلاعات کی تصدیق کرنے کی صلاحیت محدود ہے۔'

پرکاش کو ابو خالد الکمبوڈی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور ان کا نام آسٹریلیا میں حملوں کی منصوبہ بندی میں لیا جاتا ہے جبکہ وہ متعدد پروپیگنڈا ویڈیوز اور جریدوں میں سامنے آ چکے ہیں۔

آسٹریلیوی اٹارنی جنرل جارج برینڈس نے مئی میں کہا تھا کہ' پرکاش داعش( دولتِ اسلامیہ) کا نمایاں رہنما رکن تھا اور دہشت گردی کارروائئوں کے لیے بھرتیاں کرنے اور ان حملوں میں معاونت کرنے والا سینیئر رکن تھا۔'

جارج برینڈس کے مطابق پرکاش نے سرگرمی سے آسٹریلیوی مردوں، خواتین اور بچوں کو بھرتی کیا اور ان کی دہشت گردی کے اقدامات پر حوصلہ افزائی کی۔

اسی بارے میں