وسکانسن میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ فراڈ ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 'عوام بول چکی ہے اور انتخاب ختم ہو چکا'

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست وسکانسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست کو ’فراڈ‘ قرار دیا ہے۔

رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’انتخابی نتائج کی تذلیل یا چیلنج کرنے کی بجائے اس کا احترام کرنا چاہیے۔‘

خیال رہے کہ حال ہی میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب میں ریاست وسکانسن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو بہت تھوڑے ووٹوں سے اپنی حریف ہلیری کلنٹن پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔

یہ درخواست گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جل سٹین کی جانب سے جمع کروائی گئی ہے۔ جل سٹین وسکانسن کے علاوہ مشیگن، پینسلوینیا میں بھی ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروانا چاہتی ہیں۔

دیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن کی مہم کا کہنا ہے کہ وہ وسکانسن میں ہونے والی دوبارہ گنتی میں شرکت کریں گے۔

آٹھ نومبر کے صدارتی انتخاب کے نتائج کو تبدیل کرنے کے لیے ان تینوں ریاستوں کے نتائج کو تبدیل کرنا ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈاکٹر سٹین کے بارے میں کہا کہ ’وہ اپنی تجوری پیسوں سے بھرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’عوام بول چکی ہے اور انتخاب ختم ہو چکا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جل سٹین کا کہنا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی آئندہ جمعے کو شروع ہو جائے گی

دوسری جانب ڈاکٹر سٹین نے اپنے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا ہے کہ ’اس سے یہ نکتہ اخذ کرنا مقصد ہے کہ انتخابی عمل محفوظ ہو اور اس سے اسب کو فائدہ ہو۔‘

ڈاکٹر سٹین نے یہ بھی کہا کہ وہ نہ صرف ریاست وسکانسن، مشیگن اور پینسلوینیا بلکہ دیگر ریاستوں میں بھی دوبارہ گنتی کروانے کا سوچ رہی ہیں۔

اس سے قبل ٹوئٹر پر ایک پیغام میں وسکانسن کے الیکشن کمیشن نے تصدیق کی تھی کہ کمیشن کو سٹین اور ڈل لا فیونٹے کی جانب سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی پٹیشنز موصول ہوئی ہیں۔

کمیشن کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں تفصیلات بعد میں شائع کریں گے۔

اسی بارے میں