حلب میں باغیوں کے زیر انتظام علاقوں سے ہزاروں شہریوں کی نقل مکانی

حلب تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption مشرقی حلب سے نقل مکانی کرنے والوں میں عورتیں اور بچے شامل ہیں

شامی فوج کی جانب سے مشرقی شہر حلب کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جاری پیش قدمی کے باعث ہزاروں عام شہری باغیوں کے زیر انتظام علاقوں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والے رہائشیوں کی تعداد دس ہزار کے قریب ہے اور وہ حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق نقل مکانی کرنے واے افراد کی تعداد 1500 سے زائد ہے جبکہ روس کا کہنا ہے 2500 عام شہریوں نے یہ علاقہ چھوڑا ہے۔

حلب: 'خطرہ ہے لیکن آزادی ہر جگہ نہیں ہے'

شام کے شہر حلب میں خوراک کی شدید قلت کا خدشہ

'حلب میں ہسپتالوں پر بمباری سے طبی سہولیات ختم'

افواج کی کوشش ہے کہ وہ کئی علاقوں پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد باغیوں کے زیرانتظام علاقوں کو الگ کر دیں۔

مغربی حلب کی جانب نقل مکانی باغیوں کے زیرانتظام سب سے بڑے ڈسٹرکٹ ہنانو پر شامی فوج کے قبضے کے بعد شروع ہوئی ہے۔

اتوار کو حکومتی فورسز نے جبل بدرو پر بھی قبضہ حاصل کر لیا ہے جس کے بعد اب وہ دیگر قریبی علاقوں میں داخل ہو رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران کئی ہزار عام شہری نقل مکانی کر چکے ہیں

حلب میں شدید لڑائی جاری ہے اور باغیوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

حکومتی فوجوں کی جبل ہنانو پر قبضے سے انھیں باغیوں کے زیرانتظام دیگر علاقوں کا محاصرہ کرنے میں مدد ملے گی۔

خیال رہے کہ شامی حکومت نے مشرقی حلب پر واپس قبضہ حاصل کرنے کے لیے 15 نومبر کو پیش قدمی کا آغاز کیا تھا جہاں تقریباً 275000 افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف کارروائی میں شدت آرہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حلب میں ہنانو وہ پہلا علاقہ تھا جس پر 2012 میں باغیوں نے قبضہ حاصل کیا

برطانوی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اب تک 219 شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 27 بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات کے مطابق خوراک اور ادویات کی شدید قلت بھی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب باغیوں نے حکومت کے زیرِانتظام مغربی حلب کے علاقوں میں راکٹ حملوں میں تیزی کر دی ہے۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اس کارروائی کے آغاز سے اب تک ان حملوں میں 27 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 11 بچے بھی شامل ہیں۔

شامی فوج کی جانب ہنانو پر قبضہ کی کارروائی کو باغیوں کے خلاف سب سے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

حلب میں ہنانو وہ پہلا علاقہ تھا جس پر 2012 میں باغیوں نے قبضہ حاصل کیا۔

حلب پر شامی افواج کی جانب سے دوبارہ قبضہ حاصل کرنا پانچ سال سے جاری اس تنازعے میں بشار الاسد کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دیگر محصور علاقوں ہلک، شیخ فارس اور سخور سے بھی لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ فوج کی پیش قدمی سے مغربی علاقوں حیدریہ اور الشعار سے 400 سے زائد شہریوں نے نقل مکانی کی ہے اور فوج نے انھیں اپنے زیرانتظام شہر کے مغربی علاقے میں پہنچایا ہے۔

الجزیرہ کا کہنا ہے کہ دیگر محصور علاقوں ہلک، شیخ فارس اور سخور سے بھی لوگ نقل مکانی کر رہے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار سیبسٹین اشر کا کہنا ہے کہ مشرقی حلب میں شہریوں کی جانب سے اب تک حکومت کے جنگ بندی اور انخلا کے اعلانات کو مسترد کیا جاتا رہا تھا اس لیے موجودہ پیش رفت انتہائی اہم ہے۔

خیال رہے کہ حلب کا شمار شام کے اہم صنعتی اور کاروباری مراکز میں ہوتا تھا اور سنہ 2012 سے اس کے مغربی حصے پر حکومت اور مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں