مرد سرپرستی خاتون کارٹونسٹ کی نظر میں

تصویر کے کاپی رائٹ Doaa El Adl
Image caption امیر مرد کم عمر دلہنوں کی تلاش میں پسماندہ دیہی علاقوں میں جاتے ہیں

کچھ عرب ممالک میں اب بھی اگر کوئی خاتون اپنے پاسپورٹ کے لیے درخواست دیتی ہے تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا اس کے پاس اپنے کسی رشتہ دار مرد کا اجازت نامہ ہے یا نہیں۔ ضروری نہیں کہ ’مرد سرپرست‘ کی شرط ان ممالک کے قوانین میں شامل ہو لیکن لوگوں کی روزمرہ زندگی میں اسے ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

ان دنوں بی بی بی نے ’ہنڈرڈ ویمن‘ یا ایک سو خواتین کے عنوان سے ایک سلسہ شروع کر رکھا ہے جس میں دنیا بھر میں خواتین کو درپیش مشکلات، ان کی ترقی کے امکانات اور تجربات پر مبنی رپوٹیں، ویڈیوز اور تجزیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

اس سلسلے میں ہم نے شمالی افریقہ کی تین کارٹونسٹ خواتین سے درخواست کی وہ اپنے اپنے مملک میں خواتین کی زندگی کو خاکوں کی شکل میں پیش کریں۔

مصر کی کم عمر دلہنیں

مصر کی ایوراڈ یافتہ کارٹونسٹ دعا العدل کہتی ہیں کہ ان کے ہاں مردانہ سرپرستی کی سب سے بڑی علامت مردوں کا کم عمر کی دلہنوں کا شوق ہے۔

’خلیجی ریاستوں کے امیر مردوں میں یہ رجحان عام ہے کہ وہ اپنی عمر سے بہت چھوٹی اور عارضی دلہنیں تلاش کرنے مصر کے غریب دیہی علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔‘

دعا العدل مصر کی ایک معروف کارٹونسٹ ہیں جو سیاسی موضوعات کے علاوہ عورتوں کے ختنوں جیسے متنازعہ موضوعات پر خاکے بناتی رہی ہیں اور کئی مرتبہ ان پر توہین مذہب وغیرہ کے الزامات بھی لگ چکے ہیں۔

کم عمر کی عارضی دلہنوں کے معاملے کے حوالے سے دعاالعدل کہتی ہیں کہ ’ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں مرد ان بچیوں کو امیر مردوں کے ہاتھ فروخت کر رہے ہیں اور مصر کی ریاست اسے چیز کو روکنے میں ناکام ہو چکی ہے۔‘

تیونس میں ریپ کرنے والے سے شادی

تیونس سے تعلق رکھنے والی کارٹونسٹ نادیہ خیری کا کہنا ہے کہ ’جب میں نے خاکے بنانے شروع کیے تو، تو میں نے اپنا اصل نام خفیہ رکھا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کارٹون کوئی مرد بونا رہا ہے اور ان سے محظوظ ہوتے تھے۔‘

’یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک خاتون نا صرف کارٹون بنا سکتے ہے بلکہ مزاح اور طنز سے بھرپوں خاکے تراش سکتی ہے۔‘

نادیہ خیری ’ولیز فرام ٹونیسیا‘ کے عنوان سے کارٹون بناتی ہیں جس میں وہ انقلاب کے بعد کے تیونس میں زندگی اور سیاست کی عکاسی کے لیے ولیز نامی بلی کے کردار کو استعمال کرتی ہیں۔

نادیہ خیری نے ہماری درخواست پر جو کارٹون بنایا ہے اس میں انھوں نے تیونس میں ان خواتین کی عکاسی کرنے کی کوشش کی ہے جن پر یہ دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ خاندان کی عزت کی خاطر اس مرد سے شادی کر لیں جنھوں نے انھیں ریپ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Nadia Khiari
Image caption ’شکر ہے ریپ کرنے والا مرد ہماری بیٹی سے شادی کر رہا ہے اور یوں ہماری عزت بچ گئی‘

مراکش سے باہر سفر

ریحام الحور وہ پہلی خاتون کارٹونسٹ ہیں جن کے خاکے مقامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونا شروع ہوئے۔

ریحام کی سالگرہ آٹھ مارچ کو ہوتی ہے، یعنی خواتین کے عالمی دن کے موقع پر۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ پیدائشی طور پر ایک ’فیمینسٹ‘ یا حقوق نسواں کی علمبردار ہیں۔

ریحام کو بچپن سے ہی خاکے بنانے کا شوق تھا اور جب آج سے پندرہ برس پہلے انھیں اقوام متحدہ کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا تو ان کا یہ شوق ان کا پیشہ بن گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Riham Elhour
Image caption مرد اس قانون کو خواتین کی زندگی کو قابو کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں

’ایک سو خواتین‘ کے سلسلے میں انھوں نے جس موضوع کا انتخاب کیا وہ بیرون ملک سفر ہے کیونکہ مراکش میں ایسے مردوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنی بیویوں کو ملک سے باہر جانے سے روکنے کے لیے قانون کا سہارا لیتے ہیں۔

اگرچہ سنہ 2004 اور پھر سنہ 2014 میں کی جانے والی اصلاحات میں مراکش میں ’مرد سرپرست‘ کے قانون کو ختم کر دیا گیا ہے، تاہم اب بھی خواتین کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے کہ وہ اگر اپنے بچوں کو ملک سے باہر لے جانا چاہتی ہیں تو انھیں اپنے شوہر سے اجازت لینا ہو گی۔

الحور کہتی ہیں کہ ’مرد اس قانون کو خواتین کی زندگی کو قابو کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مشن پر ڈٹی رہیں گی اور اپنے کارٹونوں کی مدد سے مراکش میں خواتین کو جس نظر سے دیکھا جاتا ہے اسے تبدیل کر کے دم لیں گی۔

اسی بارے میں