اوپیک کے اجلاس سے پہلے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تیل کی پیدوار میں 7 سات بیرل یومیہ کمی کا ابتدائی معاہدہ پایا تھا

دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کی تیل کی پیدوار میں کمی کے ممکنہ سمجھوتے پر خدشات کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں چار فیصد گراؤٹ آئی ہے۔

رواں برس ستمبر میں اوپیک کے رکن ممالک نے آٹھ برسوں میں پہلی بار تیل کی پیداوار میں کمی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اب بدھ کو جنیوا میں اوپیک کے اجلاس میں پیداوار میں کمی کا باضابطہ طور پر حتمی سمجھوتہ متوقع ہے۔

تیل کی قیمتوں کی سیاست

لیکن اوپیک کے اہم ارکان اب سمجھوتے پر متفق دکھائی نہیں دیتے ہیں اور بعض ماہرین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ اس اجلاس میں حتمی سمجھوتہ طے نہ پا سکے۔

انڈونیشیا کے وزیر توانائی اگناسیس جونن نے کہا ہے کہ'وہ یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے ہیں کہ اوپیک سمجھوتے پر پہنچ جائے گا، مجھے نہیں معلوم، دیکھیں کیا ہوتا ہے۔'

پیداوار میں کمی کے حتمی سمجھوتے پر پائے جانے والے شکوک و شبہات کی وجہ سے عالمی منڈی میں بریٹ کروڈ خام تیل کی قیمت میں 1.76 ڈالر فی بیرل کمی آئی ہے۔

بارکلیز کے ایک تجزیہ کار کے مطابق آنے والے دنوں میں تیل کی منڈی میں عدم استحکام کی صورتحال رہے گی۔

مالیاتی کمپنی گولڈ مین سکس کے ماہرین کے مطابق باضابطہ سمجھوتہ کرنے کے لیے بدھ کو تفصیلی جامع مذاکرات کرنے کی ضرورت ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

'تازہ ترین خبروں سے معلوم ہوتا ہے کہ پیداوار میں کمی پر وسیع اتفاق رائے پایا جاتا ہے تو سیاسی وجوہات اور ممالک کے کوٹے پر مذاکرات حتمی سمجھوتے کی راہ میں رکاؤٹ ہیں۔'

سمتبر میں الجزائر میں ہونے والے اجلاس میں اوپیک نے رسد زیادہ ہونے کے بعد تیل کی پیداوار میں کمی کا ابتدائی معاہدہ کیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت تیل کی پیداوار کو تقریباً یومیہ سات لاکھ بیرل تک کٹوتی کرنا تھی لیکن اس کے ساتھ ایران کو پیداوار میں اضافے کی اجازت دی گئی تھی۔

اس سے پہلے ایران اور اس کے حریف ملک سعودی عرب کے درمیان پائے جانے والے اختلافات اس نوعیت کے سمجھوتے کی راہ میں رکاؤٹ تھے۔

اسی بارے میں