’ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنا تباہ کن ہوگا‘

جان برینن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption جان برینن نے کہا کہ اس کی مثال نہیں ملتی کہ ایک معاہدہ جو گذشتہ انتظامیہ نے کیا وہ دوسری انتظامیہ ختم کر دے

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا خاتمہ 'تباہ کن' اور 'حماقت کی انتہا' ہوسکتا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے شام میں صورتحال میں خرابی کا الزام ماسکو پر عائد کرتے ہوئے نومنتخب صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ روسی وعدوں سے ہوشیار رہیں۔

ایران معاہدہ: کس کو کیا ملا؟

مشرقِ وسطیٰ ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کا منتظر

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے خاتمے اور روس کے ساتھ قریبی تعلقات کے قیام کا اشارہ دیا تھا۔

جان برینن سی آئی اے کے سربراہ کے عہدے پر چار سال تعینات رہنے کے بعد جنوری میں اس عہدے سے سبکدوش ہوجائیں گے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کو اپنے پہلے انٹریو میں جان برینن نے اس معاملات کی نشاندہی کی جس میں نئی انتظامیہ کو 'ہوشیاری اور تنظیم' کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں دہشت گردی کے متعلق استعمال کی جانے والے زبان، روس کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ اور سی آئی اے کے خفیہ اقدامات کی صلاحیتیں شامل تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جان برینن کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں یہ حماقت کی انتہا ہوگی اگر نئی انتظام یہ معاہدہ ختم کر دے'

ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ

جان برینن نے ڈونلڈ ٹرمپ نے آنے والے ٹیم کو انتخابی مہم کے دوران ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی تنسیخ کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میرے خیال میں یہ تباہ کن ہوگا۔ واقعی ایسا ہی ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اس کی مثال نہیں ملتی کہ ایک معاہدہ جو گذشتہ انتظامیہ نے کیا وہ دوسری انتظامیہ ختم کر دے۔

انھوں نے کہ ایسا کرنے سے ایران میں سخت گیروں کو تقویت ملنے کا خطرہ ہے اور دیگر اقوام بھی ایران کی ازسرنو کوششوں کے جواب میں جوہری پروگرام شروع کر سکتی ہیں۔'

جان برینن کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں یہ حماقت کی انتہا ہوگی اگر نئی انتظامیہ یہ معاہدہ ختم کر دے۔'

روس کا شام میں کردار

جان برینن کا شام کی صورتحال کے حوالے سے کہنا تھا کہ شامی حکومت اور روس دونوں شامی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں جسے انھوں نے 'ہیبت ناک' قرار دیا۔

صدر اوباما کی انتظامیہ کی جانب سے صدر بشارالاسد کے خلاف لڑنے والے اعتدال پسند باغیوں کی حمایت کی پالیسی اپنائی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان برینن نے شامی حکومت اور روس دونوں کو شہریوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا

سی آئی اے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ امریکہ کو یہی پالیسی جاری رکھتے ہوئے باغیوں کی شام، ایران، حزب اللہ اور روس کے خلاف مدد کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس شام میں مستقل میں اہم اکائی رہے گا لیکن انھوں نے کسی بھی قسم کے معاہدے پر پہنچننے پر شک و شبہات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماسکو مذاکرات میں 'چال باز' رہا ہے، اور حلب کو 'قابو کرکے' اس عمل سے نکلنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کی جانب سے اس امر کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ متعدد معاملات پر روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کی کوششیں کریں گے۔

جان برینن کا کہنا تھا کہ 'میرے خیال میں صدر ٹرمپ اور ان کی نئی انتظامیہ کو روسی وعدوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔' ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی وہ وعدے نبھانے میں ناکام رہا ہے۔

اسی بارے میں