دولتِ اسلامیہ کا اوہائیو یونیورسٹی میں حملہ کرنے کا دعویٰ

ارتان صومالیہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ارتان صومالیہ میں پیدا ہوے اور وہ سنہ 2014 میں صومالی پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ منتقل ہوے تھے

اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی یونیورسٹی میں لوگوں پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں وہ ملوث تھی۔

پیر کو اوہائیو یونیورسٹی میں 18 سالہ حملہ آور عبدالرزاق علی ارتان نے پیدل چلنے والے افراد پر گاڑی چڑھا دی اور اس کے بعد لوگوں پر چاقو سے حملے کرنے شروع کر دیے جس میں کم سے کم 11 افراد زخمی ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد حملہ آور فائرنگ میں مارا گیا تھا۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی نیوز ایجنسی عماق کا کہنا ہے کہ اُن کا 18 سالہ 'سپاہی' بزنس سکول میں پڑھتا تھا۔

عماق کی ویب سائٹ پر حملہ آور ارتان کی تصویر شائع کی گئی ہے جس میں انھوں نے نیلی قیمض پہنی ہوئی ہے اور اُن کا عقب ہرے رنگ کا ہے۔

عماق نے یہ نہیں بتایا کہ اس حملہ کی منصوبہ سازی باہر سے کی گئی تھا یا ارتان خود سے انتہا پسندی کی جانب مائل ہوا۔

ارتان کے اس حملے میں زیادہ تر افراد زخمی ہوئے اور دو افراد پر چاقو سے حملہ بھی کیا گیا۔

ایف بی آئی کے درجنوں ایجنٹ کسی بھی طرح کا سراغ لگانے کے لیے ارتان کے اپارٹمنٹ کی تلاشی لے رہے ہیں۔

صومالی حملہ آور کے پڑوسی نے بتایا کہ وہ ایک نرم مزاج شخص تھے اور وہ نماز پڑھنے کے لیے باقاعدگی سے مقامی مسجد جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ارتان صومایہ میں پیدا ہوے اور سنہ 2014 میں صومالی پناہ گزین کی حیثیت سے امریکہ منتقل ہو گئے جبکہ سنہ 2007 سے 2014 کے دوران پاکستان میں رہ چکے تھے۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ارتان نے فیس بک پر امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ روا برتاؤ کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

مبینہ طور پر انھوں نے لکھا تھا کہ 'اگر آپ ہم مسلمانوں سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ تنہا حملے روک دیں تو دولتِ اسلامیہ سے صلح کر لیں۔'

پارلمیان کی انٹیلجنس کمیٹی کے رکن اور کیلیفورنیا سے ڈیموکریٹس نمائندے ایڈم سکیف کا کہنا ہے کہ یہ کسی شخص کا انفرادی اقدام ہے جو خود سے انتہا پسندی کی جانب مائل ہوا ہے۔

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلوانے والی تنظیم نے حالیہ کچھ برسوں میں امریکہ میں مقیم صومالی کمیونٹی کو بھرتی کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ریاست مینیسوٹا میں صومالی آبادی کی کئی خواتین اور نوجوان مرد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے شام گئے ہیں۔

سکیورٹی اُمور پر بی بی سی کے نامہ نگار گورڈن کویررا کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے دعوے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس حملے میں وہ ملوث ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم اکثر انفرادی حملوں کو اپنے ’سپاہیوں‘ کے نام سے منصوب کر دیتی ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انفرادی حملہ آوروں کا دولتِ اسلامیہ کے ساتھ کوئی رابطہ تھا۔

اسی بارے میں