تیل کی قیمتوں میں اضافہ، اوپیک نے پیداوار کی حد کم کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سال ستمبر میں اوپیک ممالک کے وزرا نے کہا تھا کہ اس ملاقات میں معاہدے کی تفصیلات طے کر لی جائیں گی۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں تیل کی پیداوار میں کمی کا سمجھوتہ طے پانے کی اطلاعات کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

بدھ کو آسٹریا کے شہر ویانا میں اوپیک ممالک کے وزرائے تونائی کی ملاقات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً سات فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اوپیک کے صدر محمد بن صالح الصدا نے کہا ہے کہ تیل کی پیداوار میں جنوری سے 12 لاکھ بیرل کمی شروع ہو گی۔

تیل کی پیداوار میں کمی کے سمجھوتے کے ساتھ عالمی منڈی میں بریٹ کروڈ خام تیل کی قیمت 9 فیصد اضافے کے ساتھ 51.57 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

محمد بن صالح الصدا نے کہا ہے کہ اوپیک تنظیم سے باہر تیل پیدا کرنے والے ممالک بھی اس سمجھوتے میں فریق ہیں اور وہ بھی تجرباتی طور پر اپنی پیداوار میں کمی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ان ممالک سے اوپیک نو دسمبر کو ملاقات کرے گا جبکہ تنظیم کا آئندہ اجلاس 25 مئی 2017 کو ہو گا جس میں پیداوار میں کمی کے سمجھوتے پر عمل درآمد کے حوالے سے جائزہ لیا جائے گا۔

سمجھوتے کے تحت روس نے اپنی پیداوار میں 3 لاکھ بیرل یومیہ کمی کرے گا جبکہ اس وقت اس کی یومیہ پیداوار ایک کروڑ بیرل یومیہ ہے۔

ملاقات سے قبل سعودی عرب کے وزیرِ توانائی خالد ال فالح کا کہنا تھا کہ اس بات کے امکانات بہت اچھے ہیں کہ کوئی باضابطہ معاہدہ طے پا سکے۔

اس سال ستمبر میں اوپیک ممالک کے وزرا نے کہا تھا کہ اس ملاقات میں معاہدے کی تفصیلات طے کر لی جائیں گی۔

اوپیک ممالک نے تیل کی پیداوار کو 700000 بیرل یومیہ تک محدود کرنے پر اتفاق کیا ہے تاہم ایران کو پیداوار بڑھانے دیا جائے گا۔

اگرچھ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم تفصیلات کی کمی کی وجہ سے کچھ تاجر محتاط ہو گئے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ملک سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کی وجہ سے شکوک پیدا ہو گئے تھے کہ یہ معاہدہ ناکام ہو سکتا ہے۔

سعودی عرب سب سے بڑی کٹوتی کا بوجھ اٹھانے سے ہچکچا رہا ہے، جب کہ ایران نے اپنی پیداوار کم کرنے میں مزاحمت دکھائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے سالہا سال کی پابندیوں کے بعد ابھی اپنی پیداوار کو درکار سطح تک لانے میں وقت لگے گا۔

تاہم بدھ کو ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب نے اپنی پیداوار میں یومیہ پانچ لاکھ بیرل کمی پر اتفاق کر لیا، جو تقریباً 4.5 فیصد بنتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں