روس حلب کے لیے محفوظ راستے دینے کو تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ حلب شہر کے علاقوں سے نکلنے کے لیے شہریوں کو محفوظ راستے دینے کے لیے بات چیت کرنے کو تیار ہے۔

امدادی کاموں سے متعلق مشیر جان ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ ان محفوظ راستوں کو حلب میں مقیم 250000 افراد کے لیے خوراک اور دواؤں کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

* مستورا حلب میں باغیوں کے حملوں سے ’دہشت زدہ‘

* حلب: ’خطرہ ہے لیکن آزادی ہر جگہ نہیں ہے‘

* ’حلب کے محصور علاقوں میں زندگی جہنم ہے‘

انھوں نے خبردار کیا کہ حلب مںی حالات نہایت ابتر ہوچکے ہیں اور بہاں آپریشن بھی بغیر انستھیزیا کے کیے جا رہے ہیں۔

روسی کی حمایت یافتہ شامی حکومتی فورسز نے مشرقی حلب کے ایک تہائی حصہ پر قبضہ واپس حاصل کر لیا ہے۔

جمعرات کو ریاستی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ شامی فوج نے دو مزید علاقوں پر قبٰضہ حاصل کر لیا ہے۔

تاہم انسانی حقوق کے ادارے سیریئن آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ سکان شبابی میں اب بھی جھڑپیں جاری ہیں جبکہ جنوبی علاقے شیخ سعد میں بھی باغیوں نے کچھ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

جنیوا میں ایک نیوز کانفرنق میں اقوامِ متحدہ کی امدادی ٹاسک فورس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ روس نے اعلان کیا ہے کہ وہ حلب کے حوالے سے ہمارے لوگوں کے ساتھ بات چیت کریں گے کس طرح چار راستوں کے ذریعے لوگوں کو وہاں سے نکالا جا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایگلینڈ کا کہنا تھا کہ ’وہاں کم سے کم 400 زخمی ہیں جنہیں فوری طور پر نکالے جانے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ بات چیت میں جولائئ کے بعد پہلی مرتبہ علاقے میں دوائیں اور خوراک بھجوائے جانے کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ماضی میں انسانی ہمدردی کے تحت محفوظ راستے دیے جانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ روس نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان محفوظ راستوں کا احترام کرے گا اور اقوامِ متحدہ کے حکام اب پر اعتماد ہیں کہ باغی گروہ بھی ایسا ہی کریں گے۔

جان ایگلینڈ کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ فریقین پر صورتحال کی ہنگامی کیفیت واضح ہو گئی ہے۔‘

مسٹر ایگلینڈ کا کہنا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پاس ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو مہیا کرنے کے لیے کافی خوراک موجود ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کم سے کم 27 ہزار افراد حکومت کے زیرِ کنٹول علاقوں میں پناہ لی ہے۔

اس سے پہلے شہر کے مغربی حصے میں چار لاکھ افراد پہلے سے نقل مکانی کر کے پہنچے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق امکان ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنے عملے کو وہاں بھیجے گا تا کہ اگر وہاں سے نکلنے والوں کو حراست میں لیا جاتا ہے تو اس کے شواہد مل سکیں۔

سنہ 2011 میں صدر بشارالاسد کے خلاف بغاوت سے قبل حلب شام کا سب سے بڑا شہر تھا اور یہ کاروباری اور صنعتی گڑھ تھا۔

اسی بارے میں