دنیا کو بتائیں کہ میری ماں زندہ ہیں: اسلام کریموف جونیئر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گلنارا کریموفا کو کبھی ایک طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا

ازبکستان کے سابق صدر اسلام کریموف کی بیٹی گلنارا کریموفا کے بیٹے نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی والدہ کہاں ہیں اس بارے میں معلومات عام کی جائیں۔

گلنارا کریموفا کو کبھی ایک طاقتور شخصیت سمجھا جاتا تھا۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں اسلام کریموف جونیئر نے ان حالیہ خبروں کو مسترد کیا جن کے مطابق ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انھوں نے ازبک سکیورٹی سروسز پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کی والدہ کو قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAMILY PHOTO
Image caption اسلام کریموف اپنی بہن کے ہمراہ یادگار تصویر

گلنارا کریموفا کو ایک دور میں اپنے والد کی جانشین قرار دیا جا رہا تھا۔

وہ سنہ 2014 میں ایک خاندانی جھگڑے کے بعد منظر عام سے غائب ہو گئی تھیں۔

گلنارا کریموفا پر جن کی مصروفیات میں کاروبار، سیاست، فیشن اور پاپ میوزک شامل تھا، بدعنوانی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔

لندن میں مقیم ان کے بیٹے نے بی بی سی ازبک کو بتایا کہ ان کی والدہ کو تاشقند میں موجود ان کی جائیداد ہی میں واقع تین کمروں والے ایک مکان میں رکھا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CENTRE1.COM
Image caption سنٹر ون ڈاٹ کام نے گلنارا کی موت کی خبر دی

ان کا کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے تک قید تنہائی میں رہنے کی وجہ سے ان کی والدہ کی صحت متاثر ہوئی ہے۔

اسلام کریموف جونیئر کا کہنا تھا ’وہ دو تین سال سے تنہا ان بنیادی انسانی حقوق کے بغیر رہ رہی ہیں جن کی کسی بھی شخص کو ضرورت ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی بھی انسان کو کسی نہ کسی حد تک طبی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن وہ ذہنی طور پر ٹھیک ہیں۔ ایسی اطلاعات کہ وہ ذہنی امراض کے ہسپتال میں ہیں سراسر غلط ہیں۔‘

گلنارا کریموفا بین الاقوامی سطح پر ازبکستان کی پہچان بن گئی تھیں۔ وہ ایک فیشن لیبل اور ایک پاپ ویڈیوز ریکارڈنگ کمپنی کے ساتھ منسلک تھیں۔ ان کے پاس سفارتی عہدے تھے اور وہ اہم تجارتی معاملات سنبھالتی تھیں۔

لیکن تین سال قبل ان پر رشوت اور منی لانڈرنگ کے الزامات لگائے گئے تھے۔

کچھ ہی عرصے کے بعد ان کے خاندان میں ہونے والے اختلافات منظر عام پر آ گئے۔ اس کے بعد کریموفا کی مصروفیات کو بہت محدود کر دیا گیا جن میں ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی شامل تھے کیونکہ انھوں نے برملا ازبکستان کے سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا تھا۔

دی سنٹرل ون ڈاٹ کام نے 22 نومبر کو سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے گلنارا کی موت کی خبر دی۔ یہ خبر بین الاقوامی سطح پر شائع ہوئی۔

گلنارا کے بیٹے کا کہنا ہے کہ طاقتور سکیورٹی سروس ایس این بی ان کی والدہ کو قید کرنے کی ذمہ دار ہے اور ان کے ساتھ کیا ہوا اس بارے میں معلومات بھی فراہم نہیں کر رہی۔

اسلام کریموف جونیئر کا کہنا تھا ’ میں سمجھ نہںی سکتا کہ اکیسویں صدی میں بھی کوئی ایک سادہ سے سوال کا جواب کیوں نہیں دے سکتا کہ گلنارا کہاں ہیں؟ انھیںکس چیز کے لیے نظر بند کیا گیا؟ کس کی نگرانی میں ایسا ہوا؟ یہ سادہ سے سوال ہیں جن کے جواب دیے جانے ضروری ہیں۔ ‘

Image caption اسلام کریموف جونئیر بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو کے دوران

کریموف جونیئر کا مطالبہ تھا کہ وہ اپنی ماں کی زندہ یا مردہ ہونے کی سرکاری تصدیق چاہتے ہیں۔

’ٹھیک ہے کہ اب ان کے مر جانے کے بارے میں افواہیں ہیں لیکن کیا ایسا ہی ہے؟ جب تک کہ سرکاری طور پر ایسا نہیں کہا جائے گا کوئی اس کا پتا نہیں چلا سکتا۔‘

اسلام کریموف کا کہنا ہے کہ ان کا اپنی والدہ سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے تاہم ان کی ایک بہن اب بھی ازبکستان میں ہیں جن کے توسط سے انہیں اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔

اسلام کریموف کا کہنا ہے کہ اگر وہ واپس ازبکستان جاتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ واپس ہی نہ آئیں۔

’میں جانا چاہتا ہوں، لیکن اگر میں جاتا ہوں تو میں واپس نہیں آ پاؤں گا۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم تینوں وہاں ہوں اور وہ ہماری آواز اور نقل و حرکت کو محدود کر سکیں۔‘