ٹرمپ کی کال بیجنگ کے لیے حیران کن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر تسائی میں یہ گفتگو سپیکر فون پر ہوئی

امریکہ کے نو منتخب صدر کی جانب سے چار دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی کو نظر انداز کرتے ہوئے تائیوان کی صدر سے براہِ راست فون پر بات کرنے سے بیجنگ میں پالیسی سازوں کو حیران کر دیا ہوگا۔

صدر ٹرمپ کے انتخاب کے بعد سے بیجنگ کے پالیسی ساز یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایشیا کے بارے میں ٹرمپ کو کون مشورے دے رہا ہے اور ان کی چین کے لیے آئندہ پالیسی کیا ہوگی۔ اس نئے قدم سے یقیناً غضہ اور خطرے کا احساس بڑھے گا۔

بیجنگ تائیوان کو اپنا صوبہ قرار دیتا ہے اور اس کی آزاد ریاست کی حیثیت سے پہچان کا باعث بننے والی کسی بھی چیز سے اجنتاب چین کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے۔

چار دہائیوں تک امریکی رہنماؤں نے بیجنگ کی جانب سے تائیوان کے لیے مقرر سفارتی حدود کا احترام کیا اور ’ایک چین‘ کی حیثیت کو تسلیم کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور تائوان کی صدر تسائی کے درمیان ہونے والی گفتگو دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان 1979 کے بعد ہونے والی پہلی براہِ راست بات چیت ہے۔ امریکہ نے اس وقت سے تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر رکھے ہیں۔

تائیوان کا امریکہ کے ساتھ کوئی باقاعدہ دفاعی معاہدہ نہیں ہے اس لیے تائیوان کے دفاع کا امریکی وعدہ ابہام میں لپٹا ہے۔

چونکہ یہاں چین کی فوج میں اضافہ ہو رہا ہے اس لیے اس جزیرے کو ایشیا میں کسی بھی حملے سے بچنے کے لیے امریکی حفاظی کی چھتری درکار ہوگی۔

موجودہ دور پہلے ہی چین اور تائیوان کے تعلقات کے سلسلے میں انتہائی حساس وقت ہے۔

صدر جی پنگ کے دور میں چین نے تائیون پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ بڑھایا ہے۔ لیکن بیجنگ کی تمام تر کوششوں کے باوجود چین کی حمایت یافتہ پارٹی تائیوان میں ہونے والے انتخابات میں ہار گئی۔ رائے عامہ کے مطابق تائیوان کے نوجوان چین کے ساتھ اتحاد کے حامی نہیں ہیں۔

انتخابات سے قبل اور بعد میں بھی صدر تسائی نے چین کے ساتھ سٹیٹس کو تعلق برقرار رکھنے کے وعدے کیے ہیں لیکن بیجنگ ان پر بھروسہ نہیں کرتا اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ سرکاری تعلق منقطع کردیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ اور صدر تسائی میں یہ گفتگو سپیکر فون پر ہوئی

ایسی صورتحال میں تائیوان اور امریکہ کے سرمیان تعلقات میں کوئی بھی تبدیلی نہایت اہم ہوگی۔

اس فون کال کے بعد جاری بیان میں صدر کے دفتر کا کہنا تھا ’دونوں رہنماؤں نے کہا کہ تائیواں اور امریکہ کے درمیان قریبی اقتصادی، سیاسی، سکیورٹی تعلقات موجود ہیں۔ ‘بیان کے مطابق ٹرمپ نے صدر تسائی کو صدر منتخب ہونے کی مبارکباد بھی دی۔

ان کے الفاظ شاید اتنے متنازع نہ ہوں لیکن امریکہ کے نو منتخب صدر کا تائیوانی صدر کو انتخاب پر مبارکباد دینا ہی بیجنگ کو غصہ دلانے کے لیے کافی ہے۔

اس فون کال کے بعد امریکہ کی قومی سلامتی کے ادارے کے ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پالیسی نہیں بدلی ہے بلکہ ٹرمپ کی ٹیم نے اس فون کال سے پہلے وائٹ ہاؤس کو مطلع نہیں کیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران جب ٹرمپ سے پوچھا گیا تھا کہ وہ سب سے زیادہ مشاورت کس سے کرتے یں تو ان کا کہنا تھا ’پہلے تو میں خود اپنے آپ سے زیادہ بات کرتا ہوں کیونکہ میرا دماغ بہت اچھا ہے اور میں نے بہت کچھ کہا ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی باتیں کی ہیں جن میں چین سے تجارت میں آگے نکلنا شامل ہے۔

کئی دوسری حکومتوں کی طرح بیجنگ کی حکومت بھی تذبذب کا شکار ہے۔ لیکن چین کے لیے تائیوان کی حیثیت سے زیادہ کئی اور سنجیدہ مسائل ہیں۔

جب یہ پتہ چل جائے کہ ٹرمپ اور تسائی کی فون کال کی اہمیت کیا تھی، اس کے بعد توقع رکھی جا سکتی ہے کہ چین اس کے جواب میں 'بہت ساری باتیں' کہے گا۔

اسی بارے میں