شام: مشرقی حلب کا دو تہائی حکومت کے کنٹرول میں

تصویر کے کاپی رائٹ GEORGE OURFALIAN
Image caption گذشتہ تین ہفتوں میں باغی فورسز کے قبضے میں مشرقی حلب کے بہت سے حصے پر حکومت نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے

شام میں مشرقی حلب کا دو تہائی حصہ اب حکومت افواج کے زیرِ کنٹرول آ گیا ہے۔

ایک برطانوی مانیٹریگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز مشرقی حلب میں طارق الباب کے علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد حکومتی فوج کے پاس شہر کے ہوائی اڈے اور دیگر اپنے زیرِ اثر علاقوں کے درمیان راستہ کھل گیا ہے۔

مغربی حلب میں موجود بی بی سی کی چیف انٹرنیشنل نامہ نگار لیز ڈوسیٹ کا کہنا ہے کہ طارق الباب فتح کرنے کا مطلب ہے کہ باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں کا 60 فیصد اب حکومتی کنٹرول میں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ مشرقی حلب میں رات گئے تک بمباری جاری رہی اور ہزاروں افراد طارق الباب کے محلوں سے نقل مکانی کر چکے ہیں۔

گذشتہ تین ہفتوں میں باغی فورسز کے قبضے میں مشرقی حلب کے بہت سے حصے پر حکومت نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

تاہم ابھی بھی شہر میں زیرِ محاصرہ علاقوں میں ڈھائی لاکھ کے قریب شہری پھنسے ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شامی افواج کی مشرقی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کے باعث کم سے کم 16 ہزار شہری بے گھر ہو گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ سٹیفن او برائن کا کہنا تھا کہ حلب میں جاری لڑائی کے تیز ہونے اور پھیلنے کے خدشے کے باعث وہاں سے ہزاروں افراد کے فرار کا امکان ہے۔

اطلاعات کے مطابق مشرقی حلب میں حکومت کی حامی فورسز کی جانب سے باغیوں کے زیر انتظام علاقوں میں دباؤ بڑھنے کے بعد بعض باغی دھڑے نئے فوجی اتحاد کے قیام پر رضامند ہو گئے ہیں۔ خیال کیا جا رہے کہ شام میں تقریباً دس مسلح گروہ ہیں جو اس معاہدے میں شامل ہیں اور انھیں امید ہے کہ وہ ان کے زیر انتظام باقی علاقوں کا بہتر انداز میں دفاع کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادیوں نے اس سال ستمبر میں حلب شہر کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں