فرانس: حضرت مریم کا مجسمہ ہٹانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

فرانس میں حکام نے عوامی مقامات پر مذہبی علامات کی پر نمائش عائد پابندی کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ایک پارک میں نصب حضرتِ مریم کا مجسمہ اتارنے کا حکم دیا ہے۔

اس سے پہلے عدالت نے مجسمہ ہٹانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دی تھی۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اگر تین ماہ میں مجسمہ نہیں ہٹایا گیا تو یومیہ سو یورو جرمانہ ادا کرنا ہو پڑے گا۔

قصبے کے میئر کا کہنا ہے کہ وہ حضرتِ مریم کے مجسمے کو کسی نجی زمین پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جینیوا نہر کے کنارے حضرتِ عیسیٰ اور اُن کا والدہ کا مجسمہ سنہ 2011 سے نصب ہے۔

سوشل میڈیا پر بعض افراد نے مجسمہ ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کی۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

یاد رہے کہ فرانس میں ریاستی معاملات اور گرجا گھر کا نظام ایک دوسرے سے الگ رکھنے کے سخت قوانین موجود ہیں۔

سنہ 2010 میں فرانس یورپ کا پہلا ملک تھا جہاں عوامی مقامات پر مسلمانوں کے لیے نقاب کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔