ٹرمپ کی جیت: پینسلوینیا میں دوبارہ گنتی کی درخواست واپس

ووٹوں کی دوبارہ گنتی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی ریاست وسکانسن میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی جاری ہے

امریکہ میں گرین پارٹی نے پینسلوینیا میں ریاستی سطح پر ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواست واپس لے لی ہے۔

عدالتی بیان میں کہا گيا ہے کہ عدالت کے حکم کے مطابق گرین پارٹی کے ووٹرز دس لاکھ امریکی ڈالر کی ضمانت پیر تک ادا نہیں کر سکے۔

پارٹی کی سربراہ جل سٹین نے میشیگن، وسکانسن اور پینسلوینیا میں صدارتی انتخابات کے لیے ڈالے جانے والے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کرانے پر زور دیا تھا۔

ان تینوں ریاستوں میں نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غیرمتوقع طور پر بہت کم ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔

بہر حال مسٹر ٹرمپ کے حامیوں نے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکنے کی کوشش کی ہے حالانکہ اگر گنتی ہوتی بھی ہے تو اس سے نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔

عدالت میں مجوزہ سماعت سے دو دن قبل گرین پارٹی نے مقدمہ واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے 49000 ووٹوں یعنی ایک فی صد سے بھی کم ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

عدالتی بیان میں کہا گيا ہے: ’اپیل کرنے والے معمولی ذرائع کے عام شہری ہیں اور وہ عدالت کی جانب سے دس لاکھ ڈالر کے بانڈ بھرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مز سٹین کا کہنا ہے کہ ان کی مہم امریکی ووٹنگ کے نظام کی سالمیت کی یقین دہانی پر مرکوز ہے

جل سٹین نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا: '2016 کی دوبارہ گنتی کا عمل منتخب رہنماؤں کے 21 ویں صدی کے انتخابی نظام میں سرمایہ کاری کرنے سے انکار کی صورت میں بہت مہنگا ہے۔'

ان کے معاونین نے کہا ہے کہ وہ پینسلوینیا کے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے بارے میں پیر کو نیویارک میں ٹرمپ ٹاور کے باہر اعلان کریں گے۔

جمعے کو وسکانسن کی ایک وفاقی عدالت نے مسٹر ٹرمپ کے حامیوں کے جانب سے دوبارہ گنتی کو فوری طور پر روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا لیکن اس بارے میں قانونی چارہ جوئی کی اجازت فراہم کی تھی۔

امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسکانسن میں صرف 22 ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption '2016 کی دوبارہ گنتی کا عمل منتخب رہنماؤں کے 21 ویں صدی کے انتخابی نظام میں سرمایہ کاری کرنے سے انکار کی صورت میں بہت خرچیلا ہے'

میشیگن میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں نے انتخابی بورڈ کے سامنے ریاست کے 48 لاکھ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کو روکنے کی درخواست دی تھی جہاں انھوں نے 10700 ووٹوں سے جیت حاصل کی تھی۔

جل سٹین کا کہنا ہے کہ ان کی مہم امریکی ووٹنگ کے نظام کی سالمیت کی یقین دہانی پر مرکوز ہے۔ انھوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر ٹرمپ ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے خوفزدہ کیوں ہیں۔

مسٹر ٹرمپ کی حریف ہلیری کلنٹن نے اس پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے لیکن ان کی انتخابی مہم کی ٹیم نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم مز سٹین کی مہم کے ساتھ ہیں۔

اسی بارے میں